اسلام آباد (ای پی آئی ) سینئر کالم نگار حسن نثار نے وزیراعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کے ہتھیار اٹھاکر نکلنے کے بیان پر سخت ردعمل دیا ہے ،نجی ٹی وی پروگرام میں انہوں نے علی امین گنڈا پور کے بیان کی تائید کرتے ہوئے سخت موقف اپنایااور کہاکہ اس ملک کی بھاری ترین اکثریت کے ساتھ یہ ماں( بے بے) کیا سلوک کر رہی ہے؟ پروگرام کے دوران اینکر اور تجزیہ کار میں ٹھن گئی۔۔۔

اینکرپرسن عائشہ بخش کا حسن نثار سے سوال
علی امین گنڈا پور نے کہاہے کہ ملک میں آئین و قانون نہیں ہے تووہ فسطائیت کیخلاف لڑ رہے ہیں تو وہ وزیراعلی کس آئین و قانون کے تحت ہیں ا ور کس کی وجہ سے وہ یہ دھمکیاںدے رہے ہیں کیا ان کو بانی پی ٹی آئی کہہ رہے ہیں کہ یہ سب کچھ کہو اورریاست پر چڑھ دوڑو

حسن نثار نے جواب دیا کہ جب میرے بھائی اینکر افتخار احمد گفتگو کر رہے تھے تو مجھے مشرقی پاکستان سے چند ماہ پہلے کے دن یادآئے اورظاہر ہے یہ تو ایسا موقع نہیں ہے سارے پڑھے لکھے لوگ ہیں جبکہ ناظرین کو بھی یہ تو پتہ ہے کہ ایسٹ پاکستان کے قیام میں نا انصافی کتنی تھی، دہشت گردی کتنی تھی میرٹ کتنا تھا ، کمینگی اور خود غرضی کتنی تھی اس میں نہیں جاتے تو ا ایک بزرگ کہا کرتے ہیں کہ یہ مت دیکھو کون کہہ رہا ہے صرف اس پہ توجہ دو وہ کیا کہہ رہا ہے.

حسن نثار نے کہاکہ جب پاکستان میں جسٹس افتخار چوہدری کی بحالی کی تحریک زوروں پہ تھی اعتزاز احسن اس کی قیادت کر رہے تھے تو انہوں نے اپنی ایک نظم پڑھنی شروع کی کہ ریاست ہوگی ماں کے جیسی۔
حسن نثار نے کہاکہ اعتزاز احسن کی یہ بات مجھے اس وقت پھریاد آئی جب افتخار نے ریاست کو ماں کے ساتھ ملایا چونکہ اعتزاز صاحب کے ساتھ میرا بہت دیرینہ بہت ہی گہرا تعلق ہے وہ میرے بھائیوں کی طرح ہیں.
انہوں نے کہا کہ ریاست ہوگی ماں کے جیسی والی بات چند بار تو میں پی گیا میری عادت ہے ری ایکٹ کرنے کی میں نے محبت میں احترام میں خاموشی اختیار کی پھر میں نےپاکستان کے سب سے بڑے اخبار میں اپنے سب سے پاپولر کالم چوراہا میں لکھا کہ اعتزاز بھائی خدا کا واسطہ یہ ریاست ماں کے جیسی تو ہوگی لیکن سوتیلی ماں کے جیسی ہوگی.

حسن نثار نے عائشہ بخش کو مخاطب کرتے ہوئےکہاکہ اعتزاز صاحب بھی پروگرام سن رہے ہونگے کیونکہ ان کے ساتھ میرا تعلق ہی ایسا ہے .اس لیے نہیں کہ آپ کاپروگرام بڑا پاپولر ہے

حسن نثار نے کہاکہ اینکر افتخار نے چند بنیادی چیزوں کی طرف بالکل ٹھیک اشارہ کیا کہ اصل مسائل کی طرف آؤ لیکن اصل مسائل کی طرف تو نہ آنا ہی سوتیلی ماں کا کمال ہے کیا اس ملک میں میرٹ ہے ؟یا گولی مارو ۔۔

حسن نثار نے کہاکہ افتخار کے برعکس میں جمہوریت سے نفرت کرتا ہوں ۔اگر جمہوریت کے تم اتنا ہی مامے ہو تو جو جمہور کہہ رہا ہے وہ کرو لیکن تم تو ڈاکو کو لے آئے . تو خدا کا خوف کرو دیکھو جو افتخار نے یہ منطق دی ہے کہ سوتیلی ماں قاتل اور وہ ٹھیک ہے.انتخابات میں عوامی مینڈیٹ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس ملک کی بھاری ترین اکثریت کے ساتھ یہ ماں( بے بے) کیا سلوک کر رہی ہے؟

حسن نثار نے کہاکہ ڈیل یا ڈھیل نہیں ہے دلیل کی بات ہے ہاں یہ مت دیکھو کون کیاکہہ رہاہے. میں (علی امین) کوپسند نہیں کرتا مجھے ویسے ہی گنڈا پورپہلوان لگتاہے(پلوان جیا لگدا)، میں نے کبھی اس کوسنجیدہ لیاہی نہیں ہے لیکن گنڈا پورکی سوتیلی ماں والی بات ٹھیک ہے اور پاکستان سے تو میں چند سال چھوٹا ہوں میں نے تو اس ملک کے لوگوں کے چہروں پہ رونق کبھی نہیں دیکھی.صرف کوئی کم ظرف جھوٹا اور منافق ہی یہ بات کرے گا.

انہوں نے عائشہ بخش کومخاطب کئے بغیرکہاکہ میں آپ کی خوبصورت مسکراہٹ (سمائل )کی بات نہیں کر رہا ۔۔

اس موقع پر اینکر عائشہ بخش نے مداخلت کرتے ہوئے کہاکہ گنڈاپور صاحب ایک صوبے کے وزیراعلی ہیں وہاں کیا ڈیلیور کر رہے ہیں؟ سوال تو یہ ہے کہ آپ خود ریاست کا حصہ ہو کر سر کیسے ہوتے رہیں آپ ایک صوبے کے وزیراعلی ہیں یا وہاں ڈیلیور کر رہے ہیں؟

حسن نثار نے کہاکہ پاکستان تحریک انصاف سب سے بڑی پولیٹیکل پارٹی ہے.اورشیخ مجیب الرحمن بھی تو اس ملک میں سب سے بڑی پولیٹیکل پارٹی کے لیڈرتھے، ذوالفقار علی بھٹو ان کی پارٹٰ کا 50 فیصد بھی نہیں تھے.

عائشہ بخش نے کہاکہ آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں لیکن یہ پرانی جگہ پر جا کے پھر پیچھے جا کر کھڑے ہونے کی ضرورت ہے آگے جانے کی ضرورت ہے کیا آگے ایسے جایا جاتا ہے؟

حسن نثار: آپ پرانی جگہ سے آگے آئے ہی نہیں تاریخ اٹھا کے دیکھ لو
عائشہ بخش: یہ بھی ٹھیک ہے

حسن نثار:لیاقت علی خان صاحب وزیراعظم بن گئے اکثریت وہ اس وقت کئی کروڑ ہم سےآگے تھے

عاشہ بخش: نثارصاحب یہ تو پھر نہ ختم ہونے والی تقریر ہو گی مگر ہم 2018 میں چلے جائیں تو پھر وہ پی ٹی آئی کا آغاز کیسے ہوا وہ تو پھر آپ کی بات بالکل میں اتفاق کروں گی کہ پی ٹی آئی کو بنایا کیسے گیا؟ کتنی کوشش کی گئی اداروں کی جانب سے اب انہوں نے جس چیز کوبنایا اس کو ختم کرنے کی کوشش ہورہی ہے۔

حسن نثار: آپ غلط کہہ رہی ہیں آپ بھی پراپیگنڈاکا شکار ہیں وہ(عمران خان) اس وقت آیا جب تحریک انصاف پارٹی بن چکی تھی( وائبل ہو گئی تھی)

عائشہ بخش: سرپارٹی بنائی کیسے گئی میں اس پہ بات کر رہی ہوں2018میں آر ٹی ایس کیسے بیٹھا؟

حسن نثار:بنانے والے کسی نے اس کو منہ نہیں لگایا وہ خود وائبل ہوا وہ کیونکہ لوگوں کے اندر بتدریج ان (موجودہ حکمرانوں)کے خلاف نفرت بڑھتی گئی ہے۔خدا کا واسطہ تاریخ کومسخ نہ کرو

عائشہ بخش: چلیں متفق سے غیر متفق ہوتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں آپ نے اپنی رائے دیدی

یاد رہے کہ وزیراعلی کے پی علی امین گنڈا پور نے حویلیاں میں خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا تھاکہ اگلی دفعہ ہم پر امن والی بات نہیں کرینگے ۔ عمران خان! خدا کا واسطہ ہے پھر پر امن کا لفظ چھوڑ دینا۔ پھر ہم نکلیں گے اور پھر ہم پر امن کے نعرے کے بغیر نکلیں گے۔ اور پھر گولی چلانے والا ، جو نہتے پہ گولی چلاتا ہے اور اپنے لوگوں کی زندگی بچانے کے لیے ہمیں انکو روکنا پڑتا ہے ۔

علی امین گنڈا پور نے پرجوش خطاب میں کہاکہ پھر جب ہم اسلحہ لیکر نکلیں گے تو پھر ہم دکھائینگے کہ بھاگتا کون ہے ۔ کس میں کتنی غیرت ہے ۔ کس میں کتنا دم ہے ۔ کس میں کتنی جواں مردی ہے ۔ پھر تم لوگ نظر نہیں آؤگے ۔

انہوں نے کہاکہ ہوش کے ناخن لو ! اگر تمہیں یہ فارم 47 پر مینڈیٹ چوری کر کے یہ اختیار ملا ہوا ہے ۔ تو یہ اختیار اگر تم اپنی عوام کے خلاف استعمال کرکے یہ سمجھتے ہو کہ یہ عوام بھیڑ بکریاں ہیں تو یہ تمہاری یہ بھول ہے ۔ یہ عوام تمہیں گریبان سے پکڑ کر ایسے گھسیٹ کر نکالے گی کہ تمہیں بنگلہ دیش بھی بھول جائے گا ۔ تمہیں شام بھی بھول جائے گا ۔۔