اسلام آباد (ای پی آئی) ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا الطاف خان کے دلائل کے دوران درخواست گزار کے وکیل کی جانب سے بولنے پر چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ خان آفریدی برہم، کیس سننے سے معذرت کرلی۔ وکیل کودوبارہ اس طرح نہ کرنے کاانتباہ کرتے ہوئے کیس سماعت کے لئے جسٹس سردار طارق مسعود کے بینچ کو بھجوادیا۔

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں جسٹس نعیم اخترافغان پر مشتمل 2رکنی بینچ نے جمعرات کے روز کیسز کی سماعت کی۔ بینچ نے تہرے قتل کیس میں گرفتار ملزم اسحاق عرف ہارون کی درخواست ضمانت بعد ازگرفتاری پرسماعت کی۔ بینچ نے گزشتہ سماعت پر سرکاری وکیل کو درخواست گزارکے دونام ہونے کے معاملہ پرتیاری کی ہدایت کی تھی۔

جمعرات کے روز ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخواالطاف خان نے پیش ہوکربتایا کہ ملزم کانادرا میں نام تبدیلی کاکوئی ریکارڈ موجود نہیں، میں نے کچھ دستاویزات جمع کروائی ہیں۔ اس پر چیف جسٹس نے درخواست گزار کے وکیل کوہدایت کی کہ وہ یہ دستاویزات دیکھ لیں ہم اس کیس کی بعد میں سماعت کریں گے۔

جب دوبارہ کیس کی سماعت شروع ہوئی تو الطاف خان نے بتایا کہ ملزم کانام ہارون سے اسحاق ہوگیااس حوالہ سے نادرا کے پاس کوئی ریکارڈ موجود نہیں۔ چیف جسٹس کاکہنا تھا کہ ایف آئی آر میں کس کونامزدکیااور کس کو گرفتار کیا۔ اس پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے پی کاکہنا تھا کہ ہارون کو۔ الطاف خان کاکہنا تھا کہ درخواست گزارنے پہلے موقف نہیں اپنایا کہ میں واقعہ کے وقت دبئی میں تھا۔

چیف جسٹس کاکہنا تھا کہ ہارون نامزد ملزم ہے اوراسحاق کوپکڑا ہے توپھر غلط بندے کو پکڑا ہے۔ اس دوران درخواست گزار کے وکیل نے بولنے کی کوشش کی جس پرچیف جسٹس نے برہمی کااظہار کیا اور کہا کہ ہم کیس کی سماعت ملتوی کررہے ہیں، میں یہ کیس نہیں سنوں گا۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ یہ کیس سردار طارق مسعود کے بینچ کو بھجوایاجائے۔ چیف جسٹس نے وکیل کومخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ محتاط رہیں اورایسادوبارہ نہ کریں۔ چیف جسٹس کاکہنا تھا کہ دوسرے وکلاء کوبھی اس سے پیغام پہنچ گیا ہوگا۔