اسلام آباد (ای پی آئی )سپریم کورٹ آف پاکستان کے سینئر ترین جج جسٹس سید منصورعلی شاہ نے کہا ہے کہ عدالت کو بتایا جائے کہ کیا پاکستان اسٹاک ایکسچینج غیر منافع بخش ادارہ ہے ، اس کااصل مقصد کیا ہے؟
سپریم کورٹ کےدو رکنی بینچ نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی جانب سے ٹیکس کے نفاذ کے معاملہ پر اٹارنی جنرل آف پاکستان اور کمشنر ان لینڈ ریونیو کو کراچی کو نوٹسز جاری کردیئے۔ جسٹس سید منصورعلی شاہ نے ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پرکمشنر ان لینڈ ریونیو کے سینئر افسرعدالت میں پیش ہوں اس معاملے میں2رکنی بینچ کافیصلہ ہے اس لئے ہم اس اپیل کی سماعت نہیں کرسکتے اس لئےسوال لکھ کر3رکنی بینچ کوبھجوادیتے ہیں۔
جسٹس سید منصورعلی شاہ کی سربراہی میں بینچ نے 24منٹ میں تمام کیسز کی سماعت مکمل کرلی۔ جسٹس سید منصورعلی شاہ کی سربراہی میں جسٹس عرفان سعادت خان پر مشتمل 2رکنی بینچ نے آج فائنل اورسپلیمنٹری کازلسٹ میں شامل 6کیسز کی سماعت کی۔ بینچ نے حیات الرحمان اوردیگر کی جانب سے معراج میر اوردیگر کے خلاف دائر درخواست پرسماعت کی۔ درخواست گزارکی جانب سے کوئی وکیل پیش نہ ہوا۔
جسٹس سید منصورعلی شاہ کاحکم لکھواتے ہوئے کہنا تھا کہ درخواست گزارنے لواحقین کی فہرست فراہم کرنا تھی جو کہ فراہم نہیں کی گئی، ہم ایک اورموقع دے رہے ہیں 2ہفتے میں اگر لواحقین کی فہرست جمع نہ کروائی گئی تو درخواست خارج کردی جائے گی۔
بینچ نے ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ، پوسٹ آفس بنوں ڈویژن بنوں کی جانب سے خلیل نوازخان اوردیگر کے خلاف فریق بننے کی درخواست پرسماعت کی۔ دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل چوہدری عامررحمان پیش ہوئے۔ جسٹس سید منصورعلی شاہ کاکہنا تھا درخواست گزارکاتعلق کیا ہے، ایک محکمہ ہے، یہ متعلقہ اتھارٹی نہیں، چوہدری عامررحمان کاکہنا تھا کہ ہم نے ذمہ داری قبول کی ہوئی ہے۔ عدالت نے درخواست زورنہ دینے کی بنیاد پرخارج کردی۔
بینچ نے اشعر رحمان، ڈاکٹر قادربخش بلوچ،شفیق اللہ کاکاخیل، ارشدسہیل اورپیراسفندیارکی جانب سے ملازمت سے برخاست کرنے کے معاملہ پرچانسلر عبدالولی خان یونیورسٹی ، مردان، گورنر خیبر پختونخوا، سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ ، حکومت خیبرپخونخوا اوردیگر کے خلاف دائر 5درخواستوں پر سماعت کی۔ جسٹس سید منصورعلی شاہ کاکہنا تھا کہ انکوائری ہوئی ہے جوکہ حقائق پر مبنی ہے ، ساراکچھ ہے، ہمارے لئے اس میں کیا قانونی سوا ل ہے۔
جسٹس سید منصورعلی شاہ کادرخواست گزار کے وکیل خلیل رحمان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پہلے اشعررحمان پرآجائیں۔ جسٹس سید منصورعلی شاہ کاکہنا تھا کیا سب درخواستوں میں ایک ہی نقطہ ہے انکوائری نہیں ہوئی۔ اس پر درخواست گزاروں کے وکلاء کاکہنا تھا کہ دیگر چیزیں بھی ہیں۔ جسٹس منصورعلی شاہ کاکہنا تھا کہ محکمانہ سلیکشن کمیٹی کی تشکیل کاکوئی نوٹیفکیشن نہیں۔ جسٹس سید منصورعلی شاہ کاکہنا تھا کون ممبرز تھے یہ بتائیں، دستاویزات دکھائیں، فیک لگ رہی ہے، درخواست گزار بھی ممبر تھے کیسے ممبر تھے، اس کانوٹیفکیشن کدھر ہے، آپ کیسے بیچ میں آئے۔ جسٹس عرفان سعادت خان کاوکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ آپ ایڈیشنل رجسٹرارتھے۔ وکیل کاکہنا تھا کہ یہ 14جولائی2016کی تعیناتیاں ہیں۔
جسٹس سید منصورعلی شاہ کاکہنا تھا کہ پوری ڈیپارٹمنٹل سلیکشن کمیٹی میں کون ہیں۔ وکیل کاکہنا تھا کہ شیر عالم رجسٹرا ر تھا اس کے خلاف اور جہانزیب کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی گئی، جبکہ سمیع اللہ کو گورنر خیبرپختونخواکی جانب سے معمولی سزادی گئی۔ وکیل کاکہنا تھا کہ سنڈیکیٹ بھی وہی جس نے شوکازنوٹس دیا اوروہی متعلقہ اتھارٹی ہے جس نے سزادی۔ درخواست گزارکاکہنا تھا کہ اس کے مئوکل کو 14جولائی2016کومحکمانہ سلیکشن کمیٹی کاممبر بنایا گیا۔
جسٹس سید منصورعلی شاہ کاحکم لکھواتے ہوئے کہنا تھا کہ محکمانہ سلیکشن کمیٹی میں کل 8ارکان شامل تھے، معاملہ پرانکوائری تاخیر سے کی گئی، قانون کے مطابق سنڈیکٹ شوکاز نوٹس جاری کرنے اور سزادینے کی مجاز نہیں تھی۔ بینچ نے درخواستوں پرفریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا ۔ بینچ نے درخواستوں پر مزید سماعت جنوری کے تیسرے سماعت ملتوی کردی۔
بینچ نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج لمیٹڈکی جانب سے کمشنر ان لینڈ ریونیو زون 6کراچی کے خلاف ٹیکس کے نفاذ کے معاملہ پردائر ایک ہی نوعیت کی6درخواستوں پرسماعت کی۔ پہلے بینچ نے درخواست گزارکے وکیل کی جانب سے پیش نہ ہونے پر عدم پیروی کی بنیاد پردرخواست خارج کرنے کاحکم دیا تاہم بعدمیں وکیل کے پیش ہونے پر بینچ کے کیس دوبارہ سنا۔ جسٹس سید منصورعلی شاہ کاکہنا تھا کہ کیا اسٹاک ایکسچینج غیر منافع بخش ادارہ ہے ، اس کامین مقصد کیا ہے وہ بتایئے۔
جسٹس سید منصورعلی شاہ کاکہنا تھا کہ 2رکنی بینچ کافیصلہ ہے اس لئے ہم اس اپیل پرسماعت نہیں کرسکتے، ہم سوال لکھ کر3رکنی بینچ کوبھجوادیتے ہیں۔جسٹس سید منصورعلی شاہ کادرخواست گزار کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اپنا لکھوائیں کیا کرتے ہیں، ایکسچینج کرتا کیا ہے، مین مقصد دکھائیں۔
جسٹس سید منصورعلی شاہ کاحکمنامہ لکھواتے ہوئے کہنا تھا کہ درخواست گزار کے مطابق پاکستان اسٹاک ایکسچینج ٹریڈ، بزنس اورخریدوفروخت کو ریگولیٹ کرتا ہے اور اس پر ٹیکس کانفاذ نہیں ہوتا۔ بینچ نے کیس کی سماعت جنوری کے چوتھے ہفتے تک ملتوی کرتے ہوئے اٹارنی جنرل آف پاکستان اور مدعاعلہیان کو نوٹسز جاری کردیئے۔ جسٹس سید منصورعلی شاہ نے ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر مدعاعلیہ محکمہ کے سینئر افسرعدالت میں پیش ہوں۔


