اسلام‌آباد(ای پی آئی)‌سپریم کورٹ آف پاکستان نے قراردیا ہے کہ پینشن رولز میں 1999میں ترمیم کے بعد والد کی وفات کے بعد سب سے بڑی بیٹی شادی ہونے یاوفات پانے تک اپنے والد کی پینشن کی حقدار ہے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کے آئینی بینچ کے سربراہ جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل 2رکنی بینچ نے جمعرات کے روزکیسز کی سماعت کی۔

جسٹس امین الدین خان نے محفوظ شدہ فیصلہ پڑھ کرسنایا جس میں درخواست گزار مسمات انیتا انعم کی اپنے مرحوم والد ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرحکومت بلوچستان ڈاکٹر محمد ابوعمار کی پینشن کی وراثت اپنے نام کرنے کے لئے دائر درخواست منظور کرلی۔

کیس کی سماعت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں جسٹس جمال خان مندوخیل پر مشتمل 2رکنی بینچ نے15اگست2024کوکیس کی سماعت کی کرکے فیصلہ محفوظ‌کیا تھا۔
جسٹس جمال خان مندوخیل کی جانب سے تحریر کردہ 7صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس امین الدین خان نے پڑھ کرسنایا۔

عدالت نے درخواست گزار کے خلاف ٹرائل کورٹ، ایپلٹ کورٹ اور بلوچستان ہائی کورٹ کے 28مئی2019،15جولائی2020اور28ستمبر2020کودیئے گئے تمام فیصلے کالعدم قراردے دیئے۔

عدالت نے قراردیا ہے کہ1999میں ترمیم پینشن رولز کے تحت جب تک شادی نہیں ہوتی توپینشن کی وراثت سب سے بڑی بیٹی کو منتقل ہو گی اور اس کی شادی یاوفات کی صورت میں اس سے اگلی سب سے بڑی بیٹی کے نام پر وراثت منتقل ہوگی۔

فیصلے میں عدالت نے معاملہ واپس ٹرائل کو بھجواتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ وہ جلددیگر فریقین کوبھی نوٹس جاری کرنے کے بعد سماعت کرکے کیس کاسمری ٹرائل کرے اور ترجیحی طور پر 60روز کے اندر فیصلہ کرکے درخواست گزار کواپنے والد کی پینشن میں اس کاحصہ دے۔