لاہور ( عابدعلی آرائیں ) لاہور ہائیکورٹ نے وزیراعلی پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کی جانب سے گورنر پنجاب کے حکم کے خلاف دائر کی گئی درخواست کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا ہے پانچ رکنی لارجر بینچ کا متفقہ فیصلہ پانچ صفحات اور پانچ پیراگراف پر مشتمل ہے ۔ جسٹس عابدعزیزشیخ کی سربراہی میں کیس کی سماعت کرنے والابینچ جسٹس طارق سلیم شیخ، جسٹس چوہدری محمد اقبال ، جسٹس عاصم حفیظ اور جسٹس مزمل اخترشبیرپرمشتمل تھا ۔

پیراگراف نمبر ایک
عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ اس پٹیشن کے ذریعے درخواست گزار چوہدری پرویز الہی نے گورنر پنجاب کے 19دسمبر2022اور22دسمبر2022کے دو احکامات کو چیلنج کیا تھا جن میںگورنر نے آئین کے آرٹیکل 130کی ذیلی شق سات کے تحت حاصل اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے پنجاب اسمبلی کا اجلاس بلایا تھا اور چوہدری پرویز الہی کو اعتماد کا ووٹ لینے کا کہاگیا تھا تاہم پہلے حکم پر عملدرآمد22دسمبر کودی گئی ا سپیکرصوبائی اسمبلی کی رولنگ کی وجہ سے نہیں ہوسکا تھا۔عدالت نے لکھا ہے کہ آئین کے آرٹیکل130کی ذیلی شق سات اور پنجاب اسمبلی رولز 1997 کے تحت 22دسمبر کو گورنر نے وزیراعلی کو وزیراعلی کا عہدہ سے ہٹا دیا تھا اور کابینہ تحلیل کردی تھی۔ تاہم چوہدری پرویز الٰہی کو آئین کے آرٹیکل133کے تحت بطور وزیراعلی کام کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ اس عدالت نے 23دسمبر کوپرویز الہی کی معروضات سننے کے بعد مقدمہ کے تمام فریقین کو نوٹس جاری کئے اور بطور عبوری ریلیف گورنر کے احکامات کو معطل کیا تھا۔ ہائیکورٹ نےاپنے23دسمبر والے حکم کا متعلقہ پیراگراف بھی اس فیصلے میں شامل کیا ہے جس میں عدالت نے قراردیا تھا کہ درخواست گزار پرویز الہی کی گذارشات سننے اور ان سے بیان حلفی لینے کے بعد گورنر پنجاب کی جانب سے19 دسمبراور 22 دسمبر کو جاری کئے گئے دونوں نوٹیفیکیشن آئندہ سماعت تک معطل کئے جاتے ہیں تاہم یہ حکم پرویزالہی کواپنی مرضی سے اعتماد کا ووٹ لینے سے نہیں روکتا۔

پیراگراف نمبر 2
فیصلے میں عدالت نے لکھا ہے کہ اس رٹ پٹیشن پر درخواست گذار کے وکیل کی جانب سے دلائل جاری تھے ، یہ پیٹیشن زیر سماعت تھی کہ اس دوران 12جنوری 2023کو چوہدری پرویز الہی نے پنجاب اسمبلی سےآئین کے آرٹیکل130کی ذیلی شق سات کے تحت اعتماد کا ووٹ لے لیا ۔اعتماد کا ووٹ لینے سے متعلق اسپیکر صوبائی اسمبلی نے 12جنوری کو نوٹیفیکیشن بھی جاری کردیا اور وہ نوٹیفیکیشن گورنر پنجاب کو بھی اسی دن پہنچا دیا گیا ہے ۔

پیراگراف نمبر 3
عدالت نے فیصلے میں لکھا ہے کہ گورنر پنجاب کے وکیل منصور عثمان اعوان نے اعتماد کا ووٹ لینے کی پیش رفت کے بعد بیان دیا ہے کہ گورنر پنجاب کو اسپیکرکی طرف سے 12جنوری کو بھجوائی گئی رپورٹ موصول ہوگئی ہے کہ وزیراعلیٰ نے گورنر کے 19دسمبر2022کےحکم کی تعمیل کرتے ہوئے آئین کے آرٹیکل130کی ذیلی شق سات کے تحت اعتماد کا ووٹ لے لیا ہے 19 دسمبر کوگورنرکی طرف سے دی گئی ہدایت پرعمل ہونے کے نتیجے میں گورنر پنجاب نے 22دسمبر2022کا حکم واپس لے لیا ہے۔

پیراگراف نمبر 4
فیصلے میں عدالت نے لکھا ہے کہ پرویزالہی کے وکیل کی جانب سے دیئے گئے بیان کی روشنی میں یہ بات عیاں ہے کہ وزیراعلی نے گورنر کی جانب سے 19دسمبر کو دیئے گئے حکم کی تعمیل کردی ہے اور گورنر پنجاب نے اس حوالے سے آگاہی کا اعتراف کیاہے اورگورنرنے 22دسمبرکا حکم واپس لے لیا ہے کیونکہ چوہدری پرویز الہی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے میں کامیاب رہے ہیں جوکہ آئین کے آرٹیکل130کی ذیلی شق سات کا تقاضہ ہے ۔

پیراگراف نمبر5
فیصلے میں عدالت نے لکھاہے کہ موجودہ صورتحال میں ہمیں آئین کے آرٹیکل130کی ذیلی شق سات کے تحت گورنر پنجاب کی طرف سے 19دسمبر کوجاری کئے گئے حکم کی وجوہات اور اسپیکرصوبائی اسمبلی کے حکم کے میرٹس دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے ۔

عدالت نے لکھا ہے کہ اس پٹیشن میں اٹھائے گئے قانونی سوالات میں سے جن کا جواب نہیں آسکا ان کو کسی اور مقدمہ میں دیکھا جائے گا۔ مزید یہ کہ گورنر پنجاب کے بیان کی روشنی میں اس پٹیشن کا نتیجہ سامنے آچکا ہے جس کے نتیجے میں چیف سیکرٹری پنجاب کی جانب سے 22دسمبر کو جو نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا تھا وہ کالعدم قرارپایا ہے اور یہ کیس نمٹایا جاتاہے۔

کیس کی سماعت کے دوران کل 89وکیل پیش ہوئے ہیں
پرویزالہی کی جانب سے 30، اسپیکرصوبائی اسمبلی کی طرف سے32 گورنر پنجاب کی جانب سے14،وفاق کی جانب سے 9 اور فریق نمبرتین کی جانب سے چار وکیل پیش ہوئے ۔

درخواست گزار چوہدری پرویزالہی کی طرف سے30وکیل پیش ہوئے جن میں بیرسٹر سید علی ظفر، زاہد نوازچیمہ ایڈووکیٹ، بیرسٹر احمد اسفند یاروحید، فریحہ عارف ایڈووکیٹ، اثنااحسن ایڈووکیٹ، سارہ مجید، ایڈووکیٹ،عبداللہ عارف ایڈووکیٹ، بیرسٹر اسفندیارلودھی، سکندر سلطان چوہدری ایڈووکیٹ،عامر سعید راں، امداد حسین چانڈیو،آدم سعید راں، چوہدری عدنان فیض کلارایڈووکیٹ، چوہدری رضوان کاشف کلار ایڈووکیٹ،شمیم اختر ایڈووکیٹ،ظہیر احمدشیخ ایڈووکیٹ، اشہد علی اظہر ایڈووکیٹ، ڈاکٹر علی قزلباش ایڈووکیٹ، احمد عمران غازی ایڈووکیٹ،منیر احمد ایڈووکیٹ، میاں شبیر اسماعیل ایڈووکیٹ، محترمہ سلمیٰ ریاض ایڈووکیٹ، محترمہ آمنہ لیاقت ایڈووکیٹ ، بیرسٹر ندرا بی مجید، ثاقب ہارون چشتی ایڈووکیٹ،وکیل عدنان رامے ، حافظ ارسلان گجراور یاسر اسلام چوہدری ایڈووکیٹ شامل ہیں ۔

گورنر پنجاب کی جانب سے 14وکیل پیش ہوئے جن میںمنصور عثمان اعوان، خالد اسحاق چوہدری۔ایم جواد یعقوب، بیرسٹر حمزہ شہرام سرور، حارث عرفان، فیضان احمد، احمدسعید، عابد سیال، عثمان ناصر اعوان، ایم ذکریاشیخ، خلیل طاہر سندھو، میاں شاہ زیب قدوس، اسد زمان تارڑ ، کمال علی خان شامل ہیں۔

وفاق کی جانب سے9وکیل پیش ہوئے جن میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل مرزا نصر احمد، ایڈیشنل اٹارنی جنرل محمد جاوید اعوان، ڈپٹی اٹارنی جنرل سید تنویر احمد ہاشمی، ڈپٹی اٹارنی جنرل چوہدری بدر منیر ملک،ڈپٹی اٹارنی جنرل طاہر محمود کھوکھر ، اسسٹنٹ اٹارنی جنرل احمد رضا چٹھہ، اسسٹنٹ اٹارنی جنرل منصور علی سیال، اسسٹنٹ اٹارنی جنرل حسام کیانی اوراسسٹنٹ اٹارنی جنرل عثمان غنی شامل ہیں۔

سپیکرپنجاب اسمبلی کی طرف سے سب سے زیادہ 32وکلا پیش ہوئے جن میں ایڈووکیٹ جنرل پنجاب ا حمد اویس ، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل جاوید اعوان، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ٹیپو سلمان، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ظفر ذوالقرنین ساہی، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل حامدشبیر آذر، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ایس این خاور خان، ایڈیشنل ایڈدوکیٹ جنرل فیاض احمد مہر، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل مختار احمد رانجھا، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ثاقب اکرم گوندل، اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل محمد برجیس طاہر، اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل سردار عقیل احمد بھٹی، اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل رائے شاہد سلیم خان،اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل محمداکبر بابا، اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل عرفان کلار،اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل چوہدری شاہد محمود، اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل چوہدری عثمان غنی،
اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل چوہدری نصیر احمد گجر،اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل چوہدری محمد زین قاضی، اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل محمدانور خان،اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب میاں ثود حنیف،اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل حنیف، اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل چوہدری محمدجہانزیب، اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل صفدر حیات بوسال، اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل مصطفیٰ شوکت عمران پاشا، اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل کاشف بشیر، اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل اویس احسن جوئیہ، اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل رانازین طاہر،اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل چوہدری عتیق زمان وینس،اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل بیرسٹر طیب جان، اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل بیرسٹرشہریار ریاض، اور
اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل زکریا یوسف طورشامل ہیں ۔

فریق نمبر تین کی جانب سے سب سے کم 4 وکیل پیش ہوئے جن میں بلال اویس ، سدرہ کنول،حیدر رسول مرزا اور سید عاطر رضاعابدی شامل تھے