اسلام آباد(ای پی آئی) وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسیت، فوزیہ وقار نے خواتین کی جائیداد کے حقوق کے قانون 2020 کے نفاذ پر تبادلہ خیال کے لیے صوبائی محتسبین کے ساتھ ایک اہم اجلاس منعقد کیا۔ یہ اجلاس فوسپاہ کے ہیڈ آفس میں ہوا، جس میں صوبائی محتسبین نے شرکت کی تاکہ موجودہ قوانین، چیلنجز اور خواتین کے جائیداد کے حقوق کو یقینی بنانے کے لیے حکمت عملی پر بات کی جا سکے۔
اجلاس میں نبیلہ حاکم، صوبائی محتسب پنجاب؛ رخشندا ناز، صوبائی محتسب خیبر پختونخوا؛ سائرہ عطا، قائم مقام صوبائی محتسب بلوچستان؛ منٹھار علی جتوئی، کنسلٹنٹ صوبائی محتسب سندھ؛ فیاض احمد بلوچ، مہرین بلوچ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل)؛ اور بلال اعظم، ڈائریکٹر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ، فوسپاہ کے رجسٹرار رحمان شہزاد اور قانونی مشیران، رفیق حسین شاہ، مسٹر ملک مجتبیٰ، اور ماہ رخ عزیز بھی اجلاس میں موجود تھے۔ فوسپا کی ریجنل ایڈوائزرز لبنا علی، سبیکا شاہ، طاہرہ پروین، بھی شامل تھیں۔
اجلاس میں خواتین کی جائیداد کے حقوق کے قانون 2020 کے نفاذ پر توجہ مرکوز کی گئی، جس میں عمل درآمد میں موجود خامیوں کی نشاندہی، مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے اور قانون کے مؤثر نفاذ کے لیے حکمت عملی ترتیب دی گئی۔ اجلاس میں باہمی دلچسپی کے امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، اور صوبوں میں پراپرٹی رائٹس کے قوانین پر تبادلہ خیال کیا گیا اور زور دیا گیا کہ سندھ اور بلوچستان، جہاں قانون نہیں ہیں، میں بھی قوانین کا نفاذ کیا جائے۔
شرکاء نے اپنے علاقائی تجربات شیئر کیے اور خواتین کے جائیداد کے حقوق کے تحفظ میں درپیش عام رکاوٹوں پر روشنی ڈالی، جن میں قانونی تاخیر، سماجی مزاحمت اور آگاہی کی کمی شامل ہیں۔ محترمہ فوزیہ وقار نے خواتین کے حقوق کے تحفظ میں صوبائی محتسبین اور علاقائی مشیروں کے اہم کردار پر زور دیا اور تمام اسٹیک ہولڈرز کے درمیان تعاون اور معلومات کے تبادلے کو بڑھانے کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔
مجوزہ ترامیم میں خواجہ سراؤں کے جائیداد کے حقوق کو ایکٹ 2020 میں شامل کرنا، خاندان کے افراد کے درمیان جائیداد کی نیلامی کا طریقہ کار، ایکٹ 2020 (EWPRA) میں جائیداد کی تعریف (منقولہ اور غیر منقولہ) کے دائرہ کار کو وسعت دینا، اور محتسب کے احکامات پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانا اور دیگر اہم تجاویز شامل ہیں۔
فوزیہ وقار نے کہا، "خواتین کی جائیداد کے حقوق کا قانون 2020 ایک انقلابی قانون ہے جو خواتین کو بااختیار بنانے اور ان کے قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے بنایا گیا ہے۔ تاہم، اس کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ ہم مل کر عمل درآمد کی راہ میں حائل رکاوٹوں پر قابو پائیں اور ملک بھر میں خواتین کے لیے انصاف کو یقینی بنائیں۔ اور وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت ان قوانین کے نفاذ میں اہم کردار ادا کرے گا۔ خواتین کی جائیداد کے حقوق کے نفاذ کا ایکٹ 2020، میں درپیش مشکلات کا حل ترمیم کے بغیر ممکن نہیں ہے
رخشندہ ناز نے خواتین کی وراثت اور جائیداد کے حقوق کے نفاذ کے ساتھ درپیش بڑے چیلنجز کو اجاگر کیا، جبکہ نعیم علی نےوفاقی محتسب کے احکامات کے نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے سخت اقدامات پر زور دیا۔ معراج ترین، سینئر لیگل ایڈوائزر، کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے)، نے قانونی احکامات کے نفاذ سے متعلق چیلنجز کا تفصیلی جائزہ پیش کیا، خاص طور پر ان معاملات میں جو عدالت کے جاری کردہ اسٹے آرڈرز اور بیان واپس لینے کے معاملات سے متعلق ہیں۔ نبیلہ حاکم نے خواتین سے متعلق جہیز کے مسائل کی وسیع پیمانے پر موجودگی اور ان کے گہرے سماجی اور اقتصادی اثرات کو اجاگر کیا۔
اجلاس میں ادارہ جاتی ڈھانچے کو مضبوط بنانے، صلاحیتوں میں اضافے، اور عوامی آگاہی کے پروگرامز کو بڑھانے پر بھی بات کی گئی تاکہ قانونی عمل کو تیز کیا جا سکے۔ شرکاء نے ان علاقوں میں خواتین کے جائیداد کے حقوق کے لیے وکالت کرنے، موجودہ قوانین کو مضبوط بنانے اور حکومت کے ساتھ فالو اپ کے ذریعے نفاذ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
اجلاس کا اختتام اس عہد کے ساتھ ہوا کہ تعاون کو بڑھانے، مضبوط آگاہی مہمات شروع کرنے، اور خواتین کے جائیداد کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے بروقت انصاف کی فراہمی کو ترجیح دی جائے گی، جو کہ صنفی مساوات اور خواتین کو بااختیار بنانے کا ایک بنیادی پہلو ہے۔


