اسلام آباد (ای پی آئی)سپریم کورٹ آف پاکستان کے آئینی بینچ کی آئندہ ہفتے کے لیئے کاز لسٹ جاری کردی گئی۔ ابتدائی طور پرسوموار اور جمعہ کے دودنوں کی کازلسٹ جاری کی گئی ہے۔
سوموار کے روز 7رکنی آئینی بینچ فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف دائر 39نظرثانی درخواستوں پر سماعت کرے گا جبکہ جمعہ کے روز 6رکنی بینچ معمول کے آئینی کیسز کی سماعت کرے گا۔ توقع ہے کہ 7رکنی بینچ منگل اور جمعرات کو بھی فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف دائردرخواستوں پرسماعت کرے گا۔ جبکہ بدھ 5فروری کے روز سپریم کورٹ میں بھی پورے ملک کی طرح عام تعطیل ہوگی۔
سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میںجسٹس جمال خان مندوخیل،جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس سیدحسن اظہررضوی، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس نعیم اخترافغان اورجسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل 7 رکنی آئینی بینچ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف دائر 39نظرثانی درخوستوں پرسوموار کے روز سماعت کرے گا۔
سابق چیف جسٹس آف پاکستان جواد ایس خواجہ کے وکیل خواجہ احمد حسین نے اپنے دلائل جاری رکھیں گے۔جبکہ جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میںجسٹس جمال خان مندوخیل،جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس سیدحسن اظہررضوی، جسٹس مسرت ہلالی اورجسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل 6رکنی آئینی بینچ جمعہ 7فروری کو 6کیسز کی سماعت کرے گا۔
جاری کازلسٹ کے مطابق بینچ جمعہ کے روز پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)کے بانی اورسابق وزیر اعظم چیئرمین عمران خان کی جانب سے آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ کے خلاف دائر درخواست سماعت کرے گا۔
یاد رہے کہ عمران خان نے ستمبر 2023 میں ایڈووکیٹ شعیب شاہین کی وساطت سے آفیشل سیکرٹ اور آرمی ترمیمی ایکٹ آئین کے آرٹیکل 184 کی شق 3 کے تحت سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا تھا۔درخواست میں صدر مملکت، وفاق اور قومی اسمبلی کو فریق بناتے ہوئے سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ترمیمی ایکٹ کو غیر آئینی قرار دیا جائے اور درخواست پر حتمی فیصلے تک آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ترمیمی ایکٹ معطل کیا جائے۔
بانی پی ٹی آئی نے آئینی درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ صدر مملکت سوشل میڈیا پر وضاحت کر چکے ہیں انہوں نے دونوں قوانین کی منظوری نہیں دی،آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت خفیہ اداروں کو بغیر وارنٹ کسی بھی گھر میں گھس کر تلاشی لینے کا اختیار دینا غیر آئینی ہے،آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ترمیمی ایکٹ بنیادی انسانی حقوق سے متصادم ہیں۔


