ایکسپریس نیوز ہیڈلائنز3بجے
1
وکیل پی ٹی آئی فیصل فرید چوہدری نے کہا ہے کہ عمران خان نے آرمی چیف کو خط لکھا ہے جس میں کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ ان کے ساتھ کھڑی ہوئی جو خود دو بار کے این آر او زدہ ہیں۔بانی پی ٹی آئی عمران خان نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو خط بھجوایا ہے اور یہ خط انہوں ںے ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت اور سابق وزیراعظم کے طور پر بھجوایا گیا، خط میں دہشت گردی کے باعث فوجی جوانوں کی شہادت کے حوالے سے گزارشات پیش کی گئی ہیں اور خط میں چھ نکات پیش کیے گئے۔اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو،کہا خط میں لکھا گیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فوج تب کامیاب ہوتی ہے جب قوم اس کے پیچھے کھڑی ہو۔عمران خان نے آرمی چیف سے پالیسی میں روبدل کی درخواست کی ہے، خط میں ملکی تاریخ کے فراڈ الیکشن 26ویں ائینی ترامیم کے حوالے سے بھی مواد تحریر کیا گیا ہے، پیکا قانون، پی ٹی آئی کے خلاف ریاستی دہشت گردی، خفیہ اداروں کی آئینی ذمہ داری، ملکی معاشی صورتحال کا ذکر کیا گیا ہے۔
2
داسو ہائیڈرو پاور؛ عالمی بینک سے ایک ارب ڈالر نئے قرض کی منظوری کا امکان،ذرائع کے مطابق داسو ہائیڈرو پاور منصوبے کی لاگت 190.1 فیصد اضافے کے ساتھ 1700 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے، جس کی وجہ زمین کے حصول میں تاخیر، سکیورٹی خدشات اور امریکی ڈالر کی قدر میں 178 فیصد اضافے کو قرار دیا گیا ہے۔داسو ہائیڈرو پاور منصوبے کا پہلا مرحلہ 2,160 میگاواٹ بجلی پیدا کرے گا، جس کے بعد دوسرے مرحلے کے بعد منصوبے کی کل پیداوار 4,320 میگاواٹ ہو جائے گی۔
3
چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے دیگر ہائی کورٹس سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ججز کو ٹرانسفر کیے جانے کے معاملے پر رد عمل دیتے ہوئے اقدام کو خوش آئند قرار دیا ہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز ٹرانسفر پر بات کرنا چاہتا ہوں، اسلام آباد وفاق کی علامت ہے۔ہمیں اسکول بھیجا جاتا ہے کہ آپ جینٹل مین بن کر آئیں، میں کیوں ججز ٹرانسفر پر راضی ہوا، ٹرانسفر آئین کے تحت ہوئی، ایک بلوچی بولنے والا جج آیا، سندھی بولنے والا جج آیا، وفاق پورے ملک کا ہے، آرٹیکل 200 کے تحت اچھا اقدام ہے۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ مزید ججز بھی دیگر صوبوں سے آنے چاہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ میں آئے ججز کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے، اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کے ٹرانسفر کے معاملے کو مکس نہ کیا جائے۔ چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کاپریس ایسوسی ایشن کی حلف برداری کی تقریب میں خطاب
4
سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت کے دوران جسٹس حسن اظہر رضوی نے وکیل سے مکالمہ کیا کہ کیا دھماکا کرنے والے، ملک دشمن جاسوس کیساتھ ساز باز کرنے والے اور عام سویلنز میں کوئی فرق نہیں؟ آپ کو اپنے دلائل میں تفریق کرنی چاہیے۔سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں کے کیس کی سماعت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بنچ سماعت کر رہا ہے۔جسٹس (ر) جواد ایس خواجہ کے وکیل خواجہ احمد حسین نے دلائل کا آغاز کر دیا اور مؤقف اپنایا کہ سویلنز کا کورٹ مارشل کسی صورت نہیں ہو سکتا، فوجی عدالتوں کا طریقہ کار شفاف ٹرائل کے تقاضوں کے برخلاف ہے۔خواجہ احمد حسین نے استدلال کیا کہ سپریم کورٹ کے تمام پانچ ججز نے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے طریقہ کار کے شفاف ہونے سے اتفاق نہیں کیا، جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ کیا دھماکا کرنے والے، ملک دشمن جاسوس کیساتھ ساز باز کرنے والے اور عام سویلنز میں کوئی فرق نہیں ہے؟ آپکو اپنے دلائل میں تفریق کرنی چاہیے۔خواجہ احمد حسین نے مؤقف اپنایا کہ ایف بی علی کیخلاف ملک کیخلاف جنگ شروع کرنے اور فوج کو بغاوت پر اکسانے کا الزام تھا، ایف بی علی کا کورٹ مارشل میجر جنرل ضیاء الحق نے 1974 میں کیا، ایف بی علی نے بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی تھی، کورٹ مارشل کرنے والے ضیاء الحق ترقی پا کر آرمی چیف بن گئے، ضیاء الحق کے آرمی چیف بننے کے بعد جو ہوا وہ اس ملک کی تاریخ ہے۔جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ اس دور میں تو کمانڈنٹ ان چیف اور ایئر چیف کو بھی اغواء کر لیا گیا تھا، اغواء کار نے اپنی کتاب میں وجوہات بھی تحریر کی ہیں۔جسٹس مسرت ہلالی نے جسٹس حسن اظہر رضوی سے سوال کیا کی ویسے وجوہات کیا تھیں؟ جسٹس حسن اظہر رضوی نے جواب دیا کہ اس کیلئے آپ کو کتاب پڑھنا پڑے گی۔جسٹس حسن اظہر رضوی کے جواب پر عدالت میں قہقہے لگے، اس دوران سپریم کورٹ نے ملٹری کورٹس کیس کی سماعت میں مختصر وقفہ کردیا۔دوران سماعت آئینی بنچ نے سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ پر عائد 20 ہزار روپے جرمانہ کا حکمنامہ واپس لے لیا، سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کی نظرثانی واپس لینے پر جرمانہ ختم کردیا گیا۔سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کے وکیل خواجہ احمد حسین کے دلائل مکمل ہوگئے، سلمان اکرم راجا نے اپنے دلائل شروع کردیے۔خواجہ احمد حسین نے کہا کہ ملک عظیم وکیل قائداعظم محمد علی جناح کی کوششوں سے بنا، یہ آئینی بنچ قائداعظم کی تصویر کے نیچے بیٹھا ہوا ہے، ہماری عدلیہ نے ماضی میں ایسے فیصلے کیے جن کے سبب قوم کو بھگتنا پڑا، میری استدعا ہے پلیز مرکزی فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے اپیلیں خارج کی جائیں، میرے موکل کو بیس ہزار روپے جرمانہ کیا گیا، ہم نے اس حکمنامے کیخلاف نظرثانی بھی دائر رکھی ہے۔خواجہ احمد حسین کا کہنا تھا کہ استدعا ہے کہ جرمانہ عائد کرنے کا حکمنامہ واپس لیا جائے، جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ چلیں ہم جرمانہ ڈبل کر دیتے ہیں، یہ بات ہلکے پھلکے انداز میں کی گئی ہے۔خواجہ احمد حسین نے کہا کہ ویسے بھی ہماری درخواست کافی حد تک غیر موثر ہو چکی ہے، آئینی بینچ کافی حد تک کیس سن چکا ہے۔جسٹس امین الدین خان نے ساتھی ججز سے مشاورت کے بعد خواجہ احمد حسین سے مکالمہ کیا کہ ٹھیک ہے ،عدالت نے نظرثانی واپس لینے کی بنیاد پر نمٹا دی۔آئینی بینچ نے سابق چیف جسٹس کو عائد کیا گیا جرمانے کا حکمنامہ واپس لے لیا، سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے متفرق درخواست دائر کی تھی، درخواست میں 26ویں آئینی ترمیم پر فیصلے تک ملٹری کورٹس کیس پر کارروائی روکنے کی استدعا کی گئی تھی، آئینی بنچ نے سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کی درخواست تاخیری حربہ قرار دی تھی۔آئینی بنچ نے سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کو بیس ہزار روپے جرمانہ عائد کیا تھا۔سلمان اکرم راجا بھارت میں اگر کسی واقعہ میں فوجی اور سویلین دونوں ملوث ہوں تو ٹرائل سویلین عدالت میں چلتا ہے، ملٹری کورٹس ایک طرح کی ایگزیکٹو عدالتیں ہیں، 103 افراد کو ملٹری ٹرائل کیلئے کیسے لے کر جایا گیا، وجوہات سامنے نہیں آئیں۔جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے کہ آپ جو دلائل دے رہے ہیں وہ ہمارے سامنے معاملہ ہے ہی نہیں، سلیمان اکرم راجہ نے کہا کہ کمانڈنگ افسر کو سویلین کی حوالگی سے قبل جوڈیشل مائنڈ اپلائی کرنا چاہیے تھا، مجھ پر اٹھارہ کیسز ہیں، اگر سپریم کورٹ آبزرویشن دے تو کل میں یہاں پیش ہو کر دلائل دے دونگا،جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ ہم آبزرویشن نہیں دے سکتے، جسٹس محمد علی مظہر نے سلمان راجہ سے مکالمہ کیا کہ آپ وہاں التوا کی درخواست دائر کر دیں۔کیس کی سماعت کل ساڑھے نو بجے تک ملتوی کردی گئی۔
5
ساہیوال میں باراتیوں کی گاڑی حادثے کا شکار، دلہا، دلہن جاں بحق ،پولیس حکام نے بتایا کہ ساہیوال میں قومی شاہراہ پر ٹریفک حادثہ پیش آیا جس میں باراتیوں کی گاڑی درخت سے ٹکراگئی جس کے نتیجے میں دُلہا اور دُلہن جاں بحق اور 3 افراد زخمی ہوگئے۔پولیس کا بتانا کہ بارات سندھ سے پتوکی واپس آرہی تھی اور حادثہ ڈرائیور کو نیند آنے کے باعث پیش آیا۔ریسکیو حکام کے مطابق حادثے کی اطلاع ملتے ہی زخمیوں کو فوری طبی امداد کے لیے یسپتال منتقل کردیا گیا۔
6
سندھ ایگریکلچرل انکم ٹیکس بل منظور،جنوری 2025 سے نافذ العمل،وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیرصدارت سندھ کابینہ کے اجلاس میں ایگریکلچر انکم ٹیکس بل 2025 کی منظوری دی گئی۔ ایگریکلچر انکم ٹیکس بل جنوری 2025 سے نافذ العمل ہوگا۔سندھ حکومت نے ایگریکلچر انکم ٹیکس میں لائیواسٹاک کو شامل نہیں کیا ہے۔ ایگریکلچر انکم ٹیکس بورڈ آف ریونیو (بی او آر) کے بجائے سندھ ریونیو بورڈ (ایس بی آر) جمع کرے گی۔ قدرتی آفات کی صورت میں ایگریکلچر انکم ٹیکس میں ایڈجسٹمنٹ ہوگی۔آباد اراضی کو چھپانے کی صورت میں جرمانہ لگایا جائے گا۔ چھوٹی کمپنیوں پر زرعی ٹیکس 20 فیصد اور بڑی کمپنیوں پر 28 فیصد لاگو ہوگا۔ 150 ملین روپے زرعی آمدنی حاصل کرنے والے ایگریکلچر انکم ٹیکس سے مستثنی ٰ ہوں گے۔ زرعی آمدنی 150 ملین روپے تا 200 ملین روپے تک ایک فیصد ٹیکس لگے گا۔ 200 ملین روپے سے 250 ملین روپے تک زرعی آمدن پر 2 فیصد ٹیکس لگے گا۔زرعی آمدنی 250 ملین روپے تا300 ملین روپے تک 3 فیصد ٹیکس لگے گا جبکہ 300 ملین روپے سے 350 ملین روپے تک زرعی آمدن پر 4 فیصد ٹیکس لگے گا۔زرعی آمدنی 350 ملین روپے تا 400 ملین روپے تک 6 فیصد ٹیکس لگے گا۔ 400 ملین روپے سے 500 ملین روپے تک زرعی آمدن پر 8 فیصد ٹیکس لگے گا۔ زرعی آمدنی 500 ملین روپے سے زائد پر 10 فیصد ایگریکلچر انکم ٹیکس لگے گا۔سندھ کابینہ کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف سے بات کرنے سے پہلے سندھ کو اعتماد میں لینا چاہئے تھا۔ ایگریکلچر انکم ٹیکس لگانے سے سبزیوں کی قیمتیں بڑھ جائیں گی اورگندم ، چاول اور دیگر اجناس بھی مہنگی ہو جائیں گی۔مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ملک کے مفاد میں سندھ کابینہ نے زرعی ٹیکس کی منظوری دی ہے۔ وفاقی حکومت سے دوبارہ بات کروں گا۔
7
پیپلز پارٹی کا مطالبہ مسترد، اراکین پارلیمنٹ کی متنازع ترقیاتی اسکیمیں بحال،ذرائع کے مطابق سات ماہ میں 460 ارب روپے کے ریونیو شارٹ فال کے باوجود ترقیاتی اسکیمیں بحال کردی گئیں، ایس اے پی پروگرام کا بجٹ 25 ارب سے بڑھا کر 50 ارب روپے کر دیا گیا۔حکومت نے پارلیمنٹیرینز کے لیے ترقیاتی فنڈز کی تقسیم کے اصول نرم کر دیے، پیپلز پارٹی کا 30 ارب کے غیر استعمال شدہ فنڈز آگے بڑھانے کا مطالبہ مسترد کردیا گیا۔رپورٹ کے مطابق اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں 300 فیصد اضافے کے بعد ترقیاتی فنڈز بھی جاری کردیے گئے، ذرائع کے مطابق ترقیاتی اسکیموں کا کام اب پاکستان انفرااسٹرکچر ڈویلپمنٹ کمپنی کو دیا جائے گا،
8
سپریم کورٹ بار نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں ججز ٹرانسفرز کو خوش آئند قرار دے د یا۔سپریم کورٹ بار نے اپنے جاری اعلامیے میں کہا کہ سپریم کورٹ بار ہمیشہ قانون کی حکمرانی عدلیہ کی آزادی کیلئے کھڑی ہوئی ہے، سپریم کورٹ بار کی ایگزیکٹو کمیٹی سے سرکولیشن کے زریعے ججز ٹرانسفرز پر رائے لی گئی۔اس میں کہا گیا کہ آئین کا ارٹیکل 200 بلکل واضح ہے، آرٹیکل 200 صدر مملکت کو ججز ٹرانسفر کی اجازت دیتا ہے ۔اعلامیے میں کہا گیا کہ ججز کی ٹرانسفرز نئی تقرری نہیں ہوتی، ٹرانسفر ہونے والے ججز کی سنیارٹی برقرار رہے گی، اعلامیہ صدر سپریم کورٹ بار میاں روف عطا کی جانب سے جاری کیا گیا۔
9
افغان حکومت اور فتنتہ الخوارج کے گٹھ جوڑ کا پردہ فاش ہو گیا اور فتنتہ الخوارج کے دہشت گردوں اور افغان حکومت کے گٹھ جوڑ کے ناقابل تردید شواہد منظر عام پر آگئے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ 30 اور 31 جنوری کی رات ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل کلاچی میں سیکیورٹی فورسز ، کےکامیاب آپریشن میں فتنتہ الخوارج کے 4 دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا گیا، "ہلاک دہشتگردوں میں افغانستان کےصوبے باغدیس کےنائب گورنرمولوی غلام محمد احمدی کا بیٹا بھی شامل تھا، یہ آپریشن ڈیرہ اسماعیل خان ۔کی تحصیل کلاچی کے علاقے مدی میں کیا گیاہلاک دہشتگردوں سے امریکی ساختہ جدید نائٹ ویژن سمیت ایم 16اے 4 اورایم 24 اسنائپر رائفلز بھی برآمد ہوئیں، باغدیس کے گورنر کے ہلاک کئے جانے والے بیٹے کی شناخت بدر الدین عرف یوسف کے نام سے ہوئی۔
10
خیبر پخونخوا؛ پولیو ڈیوٹی کیلیے جانے والا پولیس اہلکار فائرنگ سے جاں بحق،پولیس کے مطابق پولیس اہل کار پر فائرنگ کا واقعہ جمرود کے علاقے میں پیش آیا، جہاں سخی پل کے علاقے میں نامعلوم افراد نے پولیو ڈیوٹی کے لیے جانے والے پولیس اہلکار پر گولیاں چلا دیں۔واقعے کے فوراً بعد زخمی اہل کار کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم پولیس اہلکار عبدالخالق زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا ۔اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری جائے وقوع پر پہنچی اور ناکا بندی کرکے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا گیا۔
11
رمضان شوگر مل کرپشن کیس؛ حمزہ شہباز کی بریت پر فیصلہ محفوظ،اینٹی کرپشن عدالت کے جج سردار محمد اقبال ڈوگر نے وزیراعظم شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے خلاف رمضان شوگر ملز ریفرنس پرسماعت کی۔ عدالت نے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی بریت پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔ فیصلہ 6 فروری کو سنایا جائے گا۔
12
اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے میں کارروائی کے دوران متعدد عمارتوں کو دھماکے سے اڑا دیا۔غیرملکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج نے وحشیانہ کارروائی کرتے ہوئے مقبوضہ مغربی کنارے میں جنین پناہ گزین کیمپ میں مکانات سمیت متعدد عمارتیں دھماکے سے تباہ کردیں۔اسرائیلی فورسز کی جارحیت سے ایک شخص شہید ہوگیا۔اسرائیلی فوج کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جن عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا ان میں حماس کے رہنما اور کارکن مقیم تھے۔ دہشت گردی کے خطرات کے پیشِ نظر جنین میں 23 عمارتیں تباہ کی گئیں۔ ترجمان نے جنوری کے وسط سے اب تک مغربی کنارے میں 50 فلسطینی جنگجوؤں کوشہید کرنے کا دعویٰ بھی کیا۔
13
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی کا رجحان ہے جب کہ انڈیکس ایک لاکھ 13 ہزار پوائنٹس سے زیادہ پر ٹریڈ کررہا ہے۔کاروباری ہفتے کے پہلے دن مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز 287 پوائنٹس کی مندی کے ساتھ ہوا، جس کے نتیجے میں کے ایس ای 100 انڈیکس گھٹ کر 113968 پوائنٹس کی سطح پر آ گیا۔بعد ازاں بازارِ حصص میں مندی کا رجحان جاری رہا اور 640 پوائنٹس کی مندی سے 100 انڈیکس کم ہوکر 113615 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ گیا۔


