1
رمضان شوگر ملز کیس: وزیراعظم شہباز شریف اور حمزہ شہباز بری،عدالت نے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی بریت کی درخواستیں منظور کرلیں، لاہور کی اینٹی کرپشن عدالت کے جج سردار محمد اقبال ڈوگر نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے دونوں رہنماؤں کو کیس سے بری کرنے کا حکم دیا۔18 فروری 2019 کو نیب نے شہباز شریف اور ان کے بیٹے حمزہ شہباز کے خلاف رمضان شوگر ملز کیس میں ریفرنس دائر کیا تھا، شہباز شریف اور حمزہ شہباز پر شوگر ملز کے لیے گندے نالے کو 21 کروڑ روپے سے قومی خزانے کے ذریعے تعمیر کروانے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔رمضان شوگر ملز کیس کا فیصلہ 3 فروری کو محفوظ کیا گیا تھا جبکہ 28 جنوری کو مقدمہ کے مدعی ذوالفقار علی نے ریفرنس سے اظہار لا تعلقی کیا تھا۔
2
ججز تعیناتی کا معاملہ، چیف جسٹس کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کا اجلاس آج ہو گا اجلاس سپریم کورٹ کمیٹی روم میں دن 2 بجے ہوگا، اجلاس میں لاہور ہائیکورٹ میں 10 ایڈیشنل ججز کی تعیناتی کا فیصلہ کیا جائے گا، جوڈیشل کمیشن کو 10 ایڈیشنل ججز کیلئے 49 نامزدگیاں موصول ہو چکی ہیں۔عدالتی ذرائع کا بتانا ہے کہ 10 ایڈیشنل ججز کی تعیناتی کیلئے 4 ڈسٹرکٹ سیشن ججز اور 45 سینئر وکلاء کے ناموں پر غور ہوگا، لاہور ہائیکورٹ کیلئے 4 ڈسٹرکٹ سیشن ججز قیصر نذیر بٹ، محمد اکمل خان، جزیلہ اسلم اور عبہر گل خان کے نام زیر غور آئیں گے۔
3
ڈی سی کو پی ٹی آئی کی مینار پاکستان جلسے کی درخواست پر آج ہی فیصلے کا حکم،لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس فاروق حیدر نے پی ٹی آئی رہنما عالیہ حمزہ کی درخواست پر سماعت کی، چیف سیکرٹری زاہد اختر زمان اور ڈپٹی کمشنر لاہور سید موسیٰ رضا عدالتی حکم پر عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔ڈپٹی کمشنر لاہور نے عدالتی حکم پر جلسے کی اجازت سے متعلق رپورٹ پیش کی جس میں کہا گیا ہے کہ 8 فروری کو شہر میں کرکٹ میچ ہے، ہارس اینڈ کیٹل شو بھی ہے، جلسے کی اجازت سے متعلق میٹنگز ابھی جاری ہیں، کل بھی اس حوالے سے میٹنگ بلائی ہے۔جسٹس فاروق حیدر نے کہا ہے کہ ان کی جلسے کی درخواست کب موصول ہوئی تھی؟ جس پر ڈی سی نے بتایا کہ جلسے کے لیے 29 جنوری کو درخواست موصول ہوئی، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آپ کے قانون میں درج ہے کہ آپ کم سے کم کتنی مدت میں درخواست پر فیصلہ کرینگے؟ ڈی سی نے جواب میں کہا کہ قانون میں درخواست پر فیصلے کے لیے مدت کا ذکر نہیں ہے۔عدالت نے فوری چیف سیکرٹری پنجاب کو طب کر لیا اور دوران سماعت عدالتی حکم پر چیف سیکرٹری پنجاب پیش ہو گئے۔جسٹس فاروق حیدر نے کہا کہ چیف سیکرٹری صاحب کیا آپ نے رپورٹ دیکھی ہے؟ آپ نے آئین کا آرٹیکل 10 اے بھی دیکھنا ہے، اگر میٹنگ کل ہوتی ہے اور انکے جلسے کی اجازت مسترد ہوجاتی ہے تو کہاں جائیں گے؟ اگر آپ جلسے کی اجازت دیتے ہیں تو ایک دن میں تیاری ممکن کیسے ہو گی؟ اگر آپ انکی درخواست پر آج فیصلہ کردیں گے تو کیا حرج ہے؟چیف سیکرٹری پنجاب نے کہا کہ عدالت جو حکم دے گی اس پر عمل کرینگے جس پر عدالت نے کہا ہے کہ عدالت کو آپ سے ایسے ہی جواب کی توقع تھی۔بعدازاں عدالت نے مینار پاکستان پر جلسے کی اجازت دینے یا نہ دینے سے متعلق ڈی سی لاہور کو تحریک انصاف کی درخواست پر آج شام 5 بجے تک فیصلہ کرنے کاحکم دیدیا۔
4
سندھ ہائیکورٹ کے جج جسٹس نعمت اللہ پھلپھوٹو سینئر پیونی جج کی حیثیت سے ریٹائر ہو گئے۔جسٹس خادم حسین سومرو کا تبادلہ سندھ ہائی کورٹ سے اسلام آباد ہائی کورٹ کیا گیا ہے۔ہائی کورٹ کی ویب سائٹ کے مطابق اس وقت سندھ ہائی کورٹ میں 39 میں سے 38 ججز فرائض انجام دے رہے ہیں۔
5
اسلام آباد ہائیکورٹ کے دو ججز چھٹی پر چلے گئے، اہم کیسز کی سماعت ملتوی،جسٹس طارق محمود جہانگیری اور جسٹس بابر ستار دونوں دو دن کی چھٹی پر گئے ہیں جس کے نتیجے میں آج اور کل مقرر کیسز کی کاز لسٹ منسوخ کر دی گئی ہے۔پولیس سمیت اسلام آباد کے مقامی محکموں میں دوسرے صوبوں سے بھرتیوں کے حوالے سے کیس کی کاز لسٹ بھی منسوخ کر دی گئی، اس کے علاوہ جسٹس بابر ستار کی عدم دستیابی کے سبب لارجر بنچ کی کاز لسٹ بھی منسوخ ہو گئی ہے۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے لارجر بنچ نے اٹارنی جنرل کو معاونت کے لیے آج طلب کیا تھا اور اسلام آباد پولیس میں بھرتیوں کے نتائج روکنے کے حکم میں بھی آج 6 فروری تک کی توسیع دی گئی تھی، اس کیس کی جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس بابر ستار اور جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان پر مشتمل بنچ کو سماعت کرنی تھی۔
6
حمزہ شہباز وزارت اعلیٰ کیس، چودھری پرویز الہٰی کو دوبارہ نوٹس،جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بنچ نے حمزہ شہباز وزارت اعلیٰ کیس پر سماعت کی، حمزہ شہباز کی جانب سے وکیل حارث عظمت عدالت پیش ہوئے۔دوران سماعت جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ اس کیس میں اب کچھ رہ گیا ہے؟ جس فیصلے پر نظرثانی چاہ رہے ہیں وہ آرٹیکل 63 اے والے کیس کی بنیاد پر تھا، آرٹیکل 63 اے والا فیصلہ ہی ختم ہوگیا تو اس کیس میں کیا بچا ہےایڈووکیٹ حارث عظمت نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب الیکشن کیس کا فیصلہ اب بھی برقرار ہے۔اس پر عدالت عملے نے آگا کیا کہ پرویز الہٰی کو نوٹس جاری ہوا تھا لیکن تعمیل نہیں ہوسکی تھی جس پر عدالت نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الہٰی کو دوبارہ نوٹس جاری کر دیا اور کیس کی مزید سماعت غیرمعینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
7
خیبرپختونخوا میں مفت سولر سسٹم کیلئے 16 لاکھ افراد نے رجسٹریشن کرالی۔محکمہ توانائی خیبرپختونخوا کے مطابق مفت سولر سکیم کے تحت صوبے کے ایک لاکھ 30 ہزار افراد کو سولر سسٹم دیا جائے گا، پہلے مرحلے میں 65 ہزار اور دوسرے مرحلے میں بھی 65 ہزار افراد کو مفت سولر سسٹم ملے گا، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت رجسٹرڈ لوگ مفت سولر سسٹم کے اہل ہیں۔ 100 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والوں کو 50 فیصد سبسڈی پر سولر سسٹم دیا جائے گا، ایک سسٹم کی کل مالیت تقریباً دو لاکھ روپے ہے، درخواستوں کی آخری تاریخ کے بعد سکروٹنی کا عمل شروع ہوگا۔
8
وفاقی سرکاری ملازمین کے نئے مالی سال کےبجٹ تخمینوں پر کام کے اگلےمرحلےکی تیاری کے حوالے سے محکموں میں آسامیوں کی تفصیلات فراہم کرنےکی ڈیڈ لائن آج ختم ہو جائے گی۔وزارت خزانہ کی دستاویز کے مطابق تمام وزارتوں، ڈویژنز سے آسامیوں کی تفصیلات 6 فروری تک مانگی ہیں، وزارت خزانہ نےتمام وزارتوں، ڈویژنز اورمحکموں کو ہدایات جاری کی تھیں کہ تمام فالتوآسامیاں ختم اورنئی آسامیوں کی تخلیق پرپابندی کا فیصلہ ہوا ہے اورکسی بھی وزارت،ڈویژن یا محکمے میں نئی آسامیوں کی اجازت نہیں ہوگی۔دستاویز میں مزید بتایا گیا کہ نئی آسامیوں کی تخلیق وزارت خزانہ کی پیشگی منظوری سےمشروط ہوگی، تین سال سے زائد عرصے سےخالی تمام آسامیوں کی نشاندہی،ختم کرنےکی ہدایت کی گئی ہے۔