اسلام آباد (ای پی آئی) سابق ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری نے صحافی سلیم صافی کی جانب سے دائر مقدمہ میں ایف آئی اے کیخلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا

اپنے وکیل کے توسط سے لاہورہائیکورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں قاسم سوری نے موقف اپنایا ہے کہ نجی چینل کے صحافی نے جھوٹی، بے بنیاد، جعلی اور فرضی درخواست ایف آئی اے کو دی جس پر ایف آئی اے کی جانب سے 2 جنوری کو نوٹس جاری کیا گیا.
درخواست میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار کی ٹویٹ سائبر کرائم کے دائرہ اختیار میں نہیں آتی لیکن ایف آئی اے درخواست گزار کو بغیر کسی ٹھوس وجہ کے جھوٹی انکوائری میں گھسیٹنا چاہتی ہے.

قاسم سوری نے موقف اپنایا ہے کہ ٹویٹ میں سیاسی تبصرہ کیا تھا ‏الیکٹرانک کرائم ایکٹ 2016 کے تحت کوئی جرم نہیں کیا۔ اس لئے ایف آئی اے کی انکوائری خلاف قانون اور انسانی بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
درخواست میں قاسم سوری نے عدالت کو آگاہ کیا ہے کہ درخواست گزار لاہور میں موجود ہے اور ایف آئی اے کو جواب بھی جمع کروا دیا ہے۔

درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت ایف آئی اے کیجانب سے جاری نوٹس کو کالعدم قرار دے۔

یاد رہے کہ صحافی سلیم صافی نے اپنی ٹوئیٹ میں کہا تھا کہ میں نےٹھوس شواہدکی بنیادپرقاسم سوری کےخلاف شکایت کی تھی۔انہیں دس دن دئےگئےلیکن 12جنوری کووہ ایف آئی اےمیں پیش نہیں ہوئے۔عمرانی حکومت میں کیاکچھ ہوتارہاوہ سب کےسامنےہے۔سوری یادرکھیں کہ میں اپنی ماں کوگالی کےمعاملےکومنطقی انجام تک پہنچاکررہوں گا۔عمران کی طرح یوٹرن لینا میری عادت نہیں۔