اسلام آباد(محمداکرم عابد) قومی اسمبلی سینیٹ کے اجلاس جاری ہیں اس ماہ قومی اسمبلی اگلے ماہ سینیٹ کے پارلیمانی سال مکمل ہوجائیں گے ۔
قومی اسمبلی رواں پارلیمانی سال کا آخری سیشن کورم کے مسئلہ کے تناظر میں جاری ہے ،وزراء کی عدم موجودگی پر اپوزیشن اتحادیوں کے احتجاج پر وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا کہ میں کسی کا دفاع نہیں کرسکتا۔ پارٹی قیادت سے بات کروں گا۔وزراء کی زمہ داری ہے کہ پارلیمانی بزنس میں حکومت کا دفاع کریں اس معاملہ کا قیادت کو جائزہ لینا چاہیے کہیں کوئی جوابدہی سے گریز تو نہیں کررہا ہے۔اسپیکر نے پہلے بھی وزیراعظم سے بات کی تھی پھر وزیراعظم سے رابطہ کیا جاسکتا ہے۔
اجلاس ڈپٹی اسپیکرغلام مصطفے شاہ کی صدارت میں ہوا۔۔
ایوان میں پی ٹی آئی ارکان کی عدم موجودگی میں جے یو آئی کے رہنما نورعالم خان نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ آئی ایم ایف کے وفد نے چیف جسٹس آف پاکستان سے ملاقات کی۔کس کی خواہش پر یہ ملاقات ہوئی کیا حکومت تیار اس بارے میں ؟ کس نے یہ ملاقات کروائی حکومت وضاحت کرے آئی ایم ایف کا سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے کیا سروکار، کل کو ہم سے ایٹمی اثاثوں کے بارے میں پوچھنا شروع کردیا گیا تو ہم کیا کریں گے۔
وزیردفاع خواجہ آصف نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف اور چیف جسٹس کی اپنی مرضی سے ملاقات ہوئی حکومت کا اس میں کوئی کردار نہیں ہے البتہ ہم بھی چاہتے ہیں کہ پاکستان میں عالمی سرمایہ کاری کو ہر حوالے سے تحفظ ملے۔حکومت کی مدد ہو۔ملاقات فریقین کی اپنی خواہش مرضی سے ہوئی ،باقی پاکستان پر کوئی کسی معاملے میں دباؤ نہیں ڈال سکتا۔ ایوان میں حامدرضا نے کورم کی نشاندہی کی تھی کاروائی معطل ہوگئی تھی۔حکومت کی دوڑیں لگی رہیں ارکان کو جمع کیا گیا اور اجلاس شروع کیا گیا تو 101ارکان موجود تھے۔مارچ میں سینیٹ کا پارلیمانی سال مکمل ہوجائے گا


