اسلام آباد(محمداکرم عابد) اظہار رائے کی آزادی سے متعلق متنازع قانون پیکا مخالف قرارداد سینیٹ میں پیش ہونے کی بھنک ملنے پر حکومت نے ایوان بالا کا کورم توڑ کراجلاس ملتوی کروادیا اس انوکھے پارلیمانی واقعہ پر سیاسی جمہوری پارلیمانی حلقوں میں حیرانگی کا اظہار کیا جارہا ہے کسی حد تک حکومتی اتحادی بھی پیکا قانون کے معاملے پر بے نقاب ہورہے ہیں صدارت پیپلزپارٹی کی جانب سے کی جارہی تھی ۔
پی ٹی آئی پارلیمانی لیڈر سنیٹر علی ظفر نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں اظہار رائے پر پابندی عائد کر دی گئی ،لوگوں کو جیلوں میں ڈالا جارہا ہے حکومت پیکا ایکٹ کے تحت لوگوں کے حقوق چھین رہی ہے ۔جو لوگوں کو اسپیس نہیں دینگے تو ردعمل آئے گا ۔حکومت نے پیکا ایکٹ کو بلڈوز کیا ہے۔پیکا ایکٹ کا مفہوم بڑا سادہ ہے۔مفہوم کے مطابق حکومت کے خلاف رائے دینے والے کو جیل بھیجا جا سکتا ہے،آزادی اظہار رائے کا حق ختم، جیل بھیجنا شروع کر دیا گیا،پیکا لوگوں سے ان کا حق چھیننے کا پہلا طریقہ ہے.
علی ظفر نے کہا کہ پہلے قانون سازی پھر بات کر لیں ایسا نہیں ہوتا،یہ کہنا کہ ہم نے قانون بنا لیا ہے اور اب بات کر لیں،آرٹیکل 200کے تحت ججز کو اسلام آباد ہائی کورٹ ٹرانسفر کیاگیا ۔ پانچ سنیئر ججز نے سنیارٹی پر اعتراض کیا ،لاہور ہائی کورٹ کے ججز سنئیر ہوگے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز جونئیرز ہوگے ۔سپریم کورٹ کے چار ججز نے بھی سنیارٹی پر تحفظات کا اظہار کیا ،سپریم کورٹ کے چار ججز نے کہا جوڈیشل پیکنگ کی جارہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے ججز کہہ رہے ہیں سنیارٹی سے جوڈیشل پیکنگ ہورہی ہے۔لاہورہائی کورٹ کے ٹرانسفر ہونے والے ججز کو متنازعہ بنا دیا گیا ۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بشری بی بی اور بانی کی پینڈنگ اپلیوں کا تعلق ہے۔اعجاز چوہدری کے پروڈکشن آرڈر پر عملدرآمد نہیں ہورہا۔
اپوزیشن اراکین نے ایوان میں مائیک نہ ملنے پر احتجاج کیا عون عباس پیکا کی متنازعہ شقوں کے خلاف قراردادپیش کرنا چاہتے تھےاور اپوزیشن کی ایوان میں اکثریت تھی اس دوران حکومت نے کورم توڑدیا اور وزیرقانون اعظم نذیرتارڑنے اپوزیشن کے شور شرابہ میں کورم کی نشاندہی کر دی ۔سینیٹ میں کورم نہ مکمل،اجلاس سوموار شام چار بجے تک ملتوی کردیا گیا ۔
سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر شبلی فراز نے ارکان کے ہمراہ پریس گیلری کادورہ کیا اوراظہار خیال کرتےہوئے کہا کہ پیکا ایکٹ کے خلاف قرارداد ایوان میں پیش کرنی تھی۔حکومت نے قرارداد پیش کرنے سے قبل ہی اجلاس ملتوی کر وادیا، اپوزیشن نے پیکا کو مسترد کیا ہے،ہم صحافیوں سے اظہار یکجہتی اور پیکا میں میڈیا کے ساتھ ہیں،پیکا ایکٹ کے خلاف قرارداد کے متن میں شقوں کو مسترد کیا،
اس موقع پرعلی ظفر نے کہا کہ عون عباس بپی نے پیکا کے خلاف قرارداد تیار کی تھی،اپوزیشن کی طرف سے پیکا ایکٹ کے خلاف قرارداد سوموار کے روز ایوان میں پیش کرنے کا اعلان کرتے ہیں۔ حکومت بے نقاب ہوگی حکومتی اتحادیوں کو مجبور کریں گے کہ وہ ساتھ دیں۔
عون عباس بپی نے کہا کہ قرارداد پیش کرنے کے لئے اپوزیشن کی تعداد پوری تھی۔حکومت کو جیسے پتا چلا تو وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کورم کی نشاندہی کردی، پہلی بار ہے کہ حکومت خوفزدہ ہوکر خود ہی کورم پوائنٹ آؤٹ کرگئی،اوروزیر قانون و پارلیمانی امور کی کورم کی نشاندہی پر اجلاس ہی ملتوی کردیا گیا۔
عون عباس نے مزید کہا کہ چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے پی ٹی آئی کے رہنما سینیٹراعجازچوہدری کے پروڈکشن آرڈرپر عملدرآمد نہ ہونے پر اجلاس کی صدارت سے انکار کردیا ہے آئندہ بھی اس بارے میں ہم آوازاٹھائیں گے۔
اجلاس کے دوران وقفہ سوالات موخر کرنے پر سنیٹر محسن عزیز نے احتجاج کیا۔روک تھام اسمگلنگ تارکین وطن ترمیمی بل 2025بل وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ایوان میں پیش کیا، ترمیمی بل 2025 منظورکرلیاگیا۔بل کے تحت انسانی سمگلنگ میں ملوث ملزمان کے لئے تین سے دس سال قید کی سزا تجویز کی گئی ہے۔۔
سینیٹ نے انسانی سمگلنگ ، بیرون ملک بھیک مانگنے اور نوعمر لڑکیوں کو جسم فروشی کے لئے بیرون ملک بھجوانے میں ملوث افراد کو سخت سزائیں دینے سے متعلق تین بلز منظور کر لئے ۔تینوں بلز متفق رائے سے منظور کیے گے ۔ان قوانین کے تحت ان جرائم میں ملوث افراد کو تین سے دس سال قید و جرمانے کی سزائیں دی جائیں گی۔بیرون ملک بھیک منگوانے میں ملوث سرغنہ کو سخت سزائیں دی جائیں گی۔


