اسلام آباد(رپورٹ ظفرعلی سپرا) نیشنل ایسوسی ایشن آف پرائیویٹ سکولز(NAPS)کے مرکزی صدر چودھری عبیداللہ نے کہاہے کہ سائنس ایجوکیشن قوموں کی ترقی اور جدید دور کی بڑی ضرورت بن چکی ہے، سائنسی میدان میں ترقی کرنے والی قومیں ترقی کی دوڑ میں آگے نکل چکی ہیں ،مسلمانوں کی تاریخ سائنسی ترقی کی علامت ہونے کے باوجود اپنے اجداد کی میراث کوچھوڑ کر اس وقت مسلمان دردرکی ٹھوکریں کھارہے ہیں، ہمیں نسل نو کو اس طرف متوجہ کرنے اور متحد ہو کر سائنس ایجوکیشن پر توجہ دینا ہوگی۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روزپاکستان کے معروف عائشہ ایجوکیشن سسٹم میں منعقدہ سائنسی نمائش میں بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔آرٹس اینڈ سائنس کی نمائش میں سکول کے بچوں کی جانب سے بنائے گئے سائنسی ماڈلز پیش کیے گئے تھے جبکہ بچوں نے جدید سائنسی علوم کے بارے میں اپنے پراجیکٹ بھی اس موقع پر ڈسپلے کیے۔سکول پرنسپل،اساتذہ اوروالدین کی کثیرتعداد نے اس موقع پر شرکت کی اور بچوں کے تیار کردہ پراجیکٹس کو سراہا۔

اپنے خطاب میں چودھری عبیداللہ کا کہنا تھاکہ اسلامی حکومتوں نے علم و حکمت کی سرپرستی اورسائنس کے بڑے بڑے موجد پیدا کئے۔ کیمیا کا موجدجابر بن حیان، طبیعات کا موجد ابن الہیشم، بصریات کا موجد ابو الفیض،الجبرا کا موجدعمر الخیام، اور دیگر بے شمار سائنسدان جن کا اعتراف آج بھی مغرب کے محقق کرتے ہیں۔اسلام نے علم کو کسی خاص گوشے میں محدود نہیں رکھا بلکہ تمام علوم کو سمیٹ کر یک قالب کر دیا ہے ، قرآن مجید میں قیامت تک سامنے آنے والے تمام علوم کی بنیاد ڈالی ہے۔چنانچہ مسلمانوں نے تفکر فی الکائنات میں تدبر سے کام لیا اور متعددسائنسی تجربات سامنے لائے۔

ان کا کہنا تھاکہ تاریخ میں ایسے بے شمار مسلمان سائنسدانوں کے نام ملتے ہیں،جنہوں نے بے شمار نئی نئی چیزیں ایجاد کیں اور دنیا میں اسلام کا نام روشن کیا۔بدقسمتی سے ہم اپنے اجداد کے کارناموں کو بھلا بیٹھے اور آج یورپ کی طرف دیکھنے پر مجبور ہیں۔ ان کا کہنا تھاکہ نئی نسل کو سائنسی تعلیم کی فراہمی سے ہم اپنا کھویا ہوا ماضی واپس لاسکتے ہیں۔