اسلام آباد(ای پی آئی )سپریم کورٹ نے ، ہینڈ گرنیڈز اور بارودی مواد برآمدگی کیس کا فیصلہ سنادیا ، انسداددہشت گردی ایکٹ کے تحت 25سال قید کی سزا پانے والے 5ملزمان کی نظرثانی اپیلیں منظور ،باعزت بری کردیا گیا۔
تفصیل کے مطابق سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس جمال خان مندوخیل کی سربراہی میں جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس ملک شہزاد احمد خان نے 2015میں راولپنڈی سے ہینڈ گرنیڈز اور بارودی مواد کے ساتھ گرفتارہونے والے محمد مصور رفیق، محمد اسد المعروف ڈاکٹر سمیت 5ملزمان کی نظرثانی درخواستوں پرسماعت کی۔
دوران سماعت درخواست گزاروں کی جانب سے مدثر خالد عباسی اور ملک جواد خالد سمیت دیگر وکلاء پیش ہوئے جبکہ پنجاب حکومت کی جانب سے ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل عرفان ضیاء پیش ہوئے۔ کمرہ عدالت میں ایک ملزم کی والدہ بھی موجود تھی جو مسلسل وردکرتی رہی اور فیصلہ سننے کے بعد زاروقطار رونا شروع کردیا۔
جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ کل 20پارسل تفتیشی افسر کی جانب سے بھجوائے گئے جن میں 5ہنڈگرنیڈز اور15بارودی مواد پر مشتمل تھے۔ جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ یہ کیسے پتہ چلے گا کہ جو موقع پرپارسل بنائے گئے وہ کون سے پارسل تھے، کیا کسی گواہ نے تصدیق کی کہ جو مال خانہ میں پارسل جمع کرواائے گئے وہ وہی تھے جو موقع پر بنائے گئے تھے۔ وکیل مدثر خالد عباسی نے کہا کہ یہ ساری کہانی بنائی گئی ہے کہ ملزمان کالعدم تنظیم سے تعلق رکھتے ہیں تاہم ساری عدالتی کاروائی کے دوران اِس تنظیم کانام نہیں بتایا گیا۔
جسٹس جمال خان مندوخیل کاکہنا تھا کہ جوبارودی مواد برآمد ہوا وہ عدالت کے سامنے پیش ہوتا ہے کہ نہیں، ہم بلوچستان میں توخود بارودی مواد دیکھتے تھے اگرتھوڑا بارودی مواد ہوتا تو وہ عدالت میں ہی دیکھ لیتے تھے اوراگر زیادہ مواد ہوتاتھاتوعدالت کے احاطہ میں جاکردیکھ لیتے تھے کہ کیا یہ وہی مواد ہے جو پکڑا گیا تھا۔
جسٹس جمال خان مندوخیل کاکہنا تھا کہ کون سے پارسل تھے بتانا چاہیے تھا۔ جسٹس ملک شہزاداحمد خان کا کہنا تھا کہ کون سے انسداددہشت ایکٹ میں ٹرائل کے لئے اجازت لینے کی ضرورت ہے۔ جسٹس جمال خان مندوخیل کاکہنا تھا کہ انسداددہشت گردی ایکٹ کے تحت ٹرائل کی اجازت لینے کی ضرورت نہیں۔
جسٹس ملک شہزاداحمد خان کاکہنا تھا کہ ہم نے آئین کے آرٹیکل 187کے تحت ہم نے مکمل انصاف کرنا ہے چاہتے آسمان ہی کیوں نہ گرپڑے۔ جسٹس ملک شہزاداحمد خان کاکہنا تھا کہ ملزمان 10سال سے جیل میں ہیں۔ جسٹس جمال خان مندوخیل کاکہنا تھا کہ اتنا سارامواد کہاں سے لے کرآئے۔ وکیل مدثر خالد عباسی کاکہنا تھا کہ اگربرآمدگی مشکوک ہوجائے توپھر کیس ہی نہیں رہتا۔
جسٹس جمال خان مندوخیل کاکہنا تھا کہ 10روسی ساختہ اور 5مقامی ساختہ ہینڈکرنیڈز تھے۔ جسٹس ملک شہزاد احمد خان کاایڈیشنل پراسیکیوٹرجنرل پنجاب سے مکالمہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ مدعی کانام کیا تھا، اطہر سعید ہے یااطہر سلیم ہے۔ جسٹس ملک شہزاداحمد خان کاکہنا تھا کہ ریکوری میمو کسی اور نے بنایا ہے اور مدعی کانام کچھ اورہے،ہم نے آنکھیں بند تونہیں کرنی۔
جسٹس جمال خان مندوخیل کاکہنا تھا کہ چالان میں نام ٹھیک ہونا چاہیے ۔ جسٹس اطہر من اللہ کاوکیل مدثر خالد عباسی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ آپ کانظرثانی کے لئے سب سے مضبوط نقطہ کون ساہے۔ وکیل کاکہنا تھا کہ 3جرائم پرالگ، الگ سزائیں دی ہیں۔ جسٹس ملک شہزاداحمد خان کاکہنا تھا کہ بندے کی زندگی لیناآسان نہیں ہوتا، 25سال عمر قید اوروہ بھی بغیر کسی معافی کے۔
جسٹس جمال خان مندوخیل کاکہنا تھا کہ عموماً کیسز میں انسداد دہشت گردی ایکٹ غلط لگایاجاتا ہے۔جسٹس ملک شہزاد احمد خان کاوکلاء سے مکالمہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کاایسا فیصلہ بتائیں جس میں بارودی مواد اورہنڈکرنیڈ برآمد ہوئے ہوں اورعدالت نے کہا ہوکہ انسداددہشت گردی ایکٹ نہیں لگتا۔
جسٹس اطہر من اللہ کاکہنا تھا کہ سپریم کورٹ کافیصلہ ہے کہ اگر بارودی مواد ملزم کے قبضہ میں ہو گااوروہ چاہے پھٹے یانہ پھٹے توبھی انسداددہشت گردی ایکٹ لگے گا۔ جسٹس جمال خان مندوخیل کاکہنا تھا کہ بارودی مواد تماشے کے لئے تونہیں ہوتایہ توہوتا ہی دہشت گردی کے لئے ہے۔
جسٹس جمال خان مندوخیل کاکہناتھا کہ بلوچستان میں مائننگ کے لئے بارودی مواد استعمال کیا جاتا ہے جس کے لئے اسلام آباد میں موجود ادارے سے باقاعدہ لائسنس لینا پڑتا ہے اوراس ادارے کاسربراہ حاضر سروس میجر جنرل ہوتا ہے۔ وکیل مدثر خالد عباسی کاکہنا تھا کہ رمضان میں خوش خوراک آدمی کوبھوک بھی زیادہ لگتی ہے۔ اس پر جسٹس جمال خان مندوخیل کاوکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ وہ توآپ کی صحت سے لگ رہاہے۔
عدالت نے فریقین کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد مختصر فیصلہ سناتے ہوئے ملزمان کی جانب سے سزائوں کے خلاف دائر نظرثانی درخواستیں منظور کرلیں۔ جسٹس جمال خان مندوخیل کاکہنا تھا کہ تفصیلی وجوہات بعد میں جاری کی جائیں گے۔عدالت نے قراردیا ہے کہ اگر درخواست گزار کسی اور کیس میں مطلوب نہیں توانہیں فوری طور پر رہاکردیا جائے۔