اسلام آباد(ای پی آئی)وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت (فوسپاہ) کے حکم پر 34 سال بعد فقراز بی بی کو 3 دہائیوں بعد وراثتی حق مل گیا۔ریونیو حکام کی تاخیر پر فوسپاہ نے ایکشن لیا، خاتون کی درخواست پر فوسپاہ نے قانونی حق بحال کروایا۔
ترجمان کے مطابق وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت فوزیہ وقار نے خاتون کو انصاف دلا دیا، فوسپاہ نے جائیداد کے انتقال کو خاتون کا وراثتی حق قرار دے دیا۔
فوسپاہ کی ہدایت پر ریونیو ریکارڈ میں انتقال کی تصدیق ہوگئی، فقراز بی بی کا 34 سالہ قانونی سفر آخرکار کامیاب ہوگیا۔
ترجمان کے مطابق 34 سال قبل متاثرہ خاتون کے والد نے جائیداد خریدی تھی، اور ان کے نام باقاعدہ رجسٹرڈ سیل ڈیڈ بھی موجود تھی، مگر ریونیو ریکارڈ میں جائیداد کے انتقال (میوٹیشن) کی تصدیق کبھی نہ ہو سکی۔
فقراز بی بی اور ان کے بہن بھائیوں نے کئی بار کوشش کی، مگر ریونیو افسران نے وقت گزرنے اور دفتری رکاوٹوں کا بہانہ بنا کر ہمیشہ درخواست کو رد کر دیا۔ ریونیو ڈیپارٹمنٹ میں داد رسی نہ ہونے پر خاتون نے فوسپاہ سے رجوع کیا تھا۔فوسپا نے نہ صرف یہ معاملہ سنجیدگی سے لیا بلکہ اسے صرف جائیداد کا تنازع نہیں بلکہ ایک عورت کے وراثتی حق اور قانونی ملکیت کے آئینی حق کی خلاف ورزی بھی قرار دیا۔
مکمل سماعت اور فوسپا کی جانب سے دیے گئے احکامات کے بعد، ریونیو حکام نے تعاون کرتے ہوئے بالآخر جائیداد کے انتقال کی تصدیق کر دی۔ اس فیصلے سے فقرہ بی بی اور ان کے خاندان کو 34 سال بعد دیر سے سہی، مگر انصاف مل گیا۔
یہ کیس اس بات کی واضح مثال ہے کہ فوسپا خواتین کے جائیداد اور وراثت سے متعلق حقوق کے تحفظ میں کس طرح اہم کردار ادا کر رہا ہے۔


