اسلام آباد (ای پی آئی ) اسلام آباد ہائیکورٹ میں 4 لاپتہ افغان بھائیوں کی بازیابی سے متعلق دائر درخواست پر سماعت ،عدالت نے 2 ہفتوں میں بازیاب کرانے کا حکم دے دیا۔
تفصیل کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محمد آصف نے لاپتہ بھائیوں کی بازیابی سے متعلق درخواستوں پر سماعت کی ،دورانِ سماعت عدالت نے لاپتہ بیٹوں کی افغان والدہ گل سیما کو روسٹرم پر بلا کر پشتو میں بات کی، پھر ترجمہ کر کے سب کو بتایا۔
جسٹس محمد آصف نے کہا کہ ان لاپتہ بھائیوں کی والدہ کہہ رہی ہیں، اگست سے ہائی کورٹ آرہی ہوں، اگر بیٹے مر گئے ہیں تو بتا دیں۔ڈی آئی جی اسلام آباد نے افغان خاتون کے بیٹوں کی بازیابی کے لیے عدالت سے مزید مہلت مانگ لی۔
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ 8 ماہ سے تو کیس ہائی کورٹ میں چل رہا ہے، رپورٹس آ رہی ہیں کہ بندہ نہیں ملا۔عدالت نے سوال کیا کہ آئی جی صاحب کو بلایا تھا وہ نہیں آئے؟ سرکاری وکیل نے کہا کہ کیس کا وقت 11 بجے تھا اس لیے آئی جی ابھی نہیں آئے، ڈی آئی جی، آر پی او و دیگر افسران موجود ہیں، دوبارہ رپورٹ جمع کروانے کے لیے وقت دے دیں۔
جسٹس محمد آصف نے کہا کہ آپ کو کتنا ٹائم چاہیے؟ وقت دینے کا کوئی فائدہ نہیں، ہمیں بندے چاہیے۔درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ یہ بھی بتا دیں اگر کوئی ایف آئی آر درج ہے تو کیا وہ ایک پر درج ہے یا چاروں بھائیوں پر؟
عدالت نے پولیس کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ 2 ہفتوں کا وقت دے رہے ہیں ہمیں نتائج سے آگاہ کریں۔ جس کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے کیس کی مزید سماعت 5 مئی تک ملتوی کر دی۔


