اسلام آباد (ای پی آئی )اسلامآباد ہائیکورٹ نے پیکا ایکٹ کے خلاف مقدمات میں عدالتی حکم کے باوجود جواب جمع نہ کرانے پر حکومت کو ایک بار پھر جواب جمع کرانے کیلئے پندرہ روز کی مہلت دیدی ہے.
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس انعام امین منہاس نے متنازع پیکا ایکٹ میں ترمیم کیخلاف پی ایف یو جے، حامد میر اور اسلام آباد ہائی کورٹ جرنلسٹس ایسوسی ایشن کی تمام درخواستوں کو یکجا کر کے سماعت کی ۔
دوران سماعت درخواست گزاروں کی جانب سے ریاست علی آزاد، عمران شفیق ایڈوکیٹ اور دیگر وکلا عدالت میں پیش ہوئے ،
سماعت کے دوران کیل ریاست علی آزاد نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سماعت پر بھی حکم امتناع جاری کرنے کی استدعا کی تھی، عدالت نے مناسب سمجھا تھا کہ پہلے جواب داخل کرانے کا موقع دیا جائے، حکومت کی سنجیدگی کا اندازہ لگا لیں کہ تاحال جواب تک داخل نہیں کرایا گیا، اس قانون کا غلط استعمال کر کے ایف آئی آرز درج کی جا رہی ہیں، ہم آج وہ ایف آئی آرز بھی لے آئے ہیں، استدعاہے کہ پیکا ایکٹ میں ترمیم پر آپریشن معطل کر دے، اگر یہ نہیں ہو سکتا تو کم از کم فریقین کو تادیبی کارروائی سے روکنے کا حکم جاری کرے، یہ آئینی عدالت ہے جس کے شہریوں کے حقوق کو تحفظ کرنا ہے ، حکومت کی اس حوالے سے سنجیدگی دیکھ لیں ، لوگوں کے خلاف مقدمے درج ہو رہے ہیں ، عدالت اسٹے دے یا اس پر کاروائی روک دے ۔
اس دوران ایڈووکیٹ عمران شفیق نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پچھلی سماعت میں کہا گیا تھا کہ پیکا ایکٹ میں ترمیم کے بعد کوئی صحافی خبر ہی نہیں دے سکے گا،
جسٹس انعام امین منہاس نے کہا کہ ایسا نہیں ہے، صحافی آج بھی خبریں دے رہے ہیں، دونوں پارٹیز کو جب تک سن نہ لوں تب تک کوئی آرڈرجاری نہیں کروں گا، اس قانون کو پارلیمنٹ نے پاس کیا ہے، صحیح یا غلط ہے جوڈیشل ریویو میں اسے دیکھیں گے، جواب آنے دیں.
عمران شفیق ایڈووکیٹ نے کہا کہ صحافی وحید مراد نے اپنے فیس بک اور ایکس اکاؤنٹ پر ایک بیان شیئر کیا تو اس کیخلاف ایف آئی آر درج ہو گئی، یہی عدالت پہلے پیکا آرڈی نینس کو کاالعدم قرار دے چکی ہے، وکیل ریاست علی آزاد نے استدعا کی کہ اس قانون کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے صحافیوں کیخلاف تادیبی کارروائی سے روک دیں،
عدالت نے کہا کہ گزشتہ سماعت پر فریقین کو کمنٹس کا کہا گیا تھا، پیراوائز کمنٹس کیوں داخل نہیں کیے گئے؟ عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سےاستفسار کیا کہ بتائیں آپ کے کمنٹس جمع نا ہونے کی وجہ سے یہ ہو رہا ہے ،
ڈپٹی اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ ہم جلدی جمع کرا دیتے ہیں ، پی ایف یو جے کی جانب سے آصف بشیر چوہدری عدالت کے سامنے پیش ہم اس عدالت کے سامنے بڑی توقعات لیکر آئے ہیں ، کم سے کم اتنا ریلیف دے دیں کہ خبر دینے پر کوئی تھانیدار لینے نا آجائے ، عدالت آئندہ تاریخ سماعت خود مقرر کر دے، عدالت نے کہا کہ کمنٹس آنے دیں، اس کے فوری بعد کیس لگ جائے گا
عدالت نے فریقین کو دوبارہ جواب داخل کرانے کے لیے پندرہ دنوں کی مہلت دے دی.
،


