اسلام آباد(ای پی آئی )سپریم کورٹ آف پاکستان میں قائمقام چیف جسٹس سید منصورعلی شاہ کی سربراہی میں 2رکنی بینچ کی مختلف کیسز کی سماعت ۔عدالت نے درخواست گزار عاتقہ حنا مشتاق کی جانب سے محکمانہ ترقی کے معاملہ پر سیکرٹر ی اسپیشل ایجوکیشن حکومت پنجاب اوردیگر کے خلاف دائردرخواست پرسماعت کی۔
درخواست گزار کی جانب سے جانب سے محمود احمد قاضی بطور وکیل پیش ہوئے ۔ وکیل درخواست گزارکاکہنا تھا کہ سابقہ رولز کے مطابق کیس پر اب تک غور نہیں کیا گیا۔ وکیل مدعا علیہ کاکہنا تھا کہ 2016میں سنیارٹی لسٹ بنی تھی اور درخواست گزار کاکیس 2019میں محکمانہ ترقی کمیٹی میں گیا، درخواست گزار نے 2017میں ایم اے سپیشل ایجوکیشن کی ڈگری حاصل کی، درخواست گزار کی جانب سے بے ضابطگی کی وجہ سے ان کے کیس پر غور نہ ہوسکا۔ درخواست گزارکے وکیل کاکہنا تھا کہ ان کی مئوکلہ نے گریڈ9فزیکل ایجوکیشن ٹیچر سے محکمانہ ترقی کے نتیجہ میں گریڈ17میں لیکچرر بنناتھا۔
جسٹس سید منصورعلی شاہ نے کہا کہ حکومت ہے پہلے اُس سے پوچھیں توسہی کیا ہورہا ہے۔ جسٹس سید منصورعلی شاہ کاسرکاری وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ یہ دکھائیں کہ 10امیدواروں پر غور کیا گیااوریہ اُس میں بھی نہیں آئے۔
سرکاری وکیل کاکہنا تھا کہ صرف فرسٹ ڈویژن میں ایم اے کی ڈگری حاصل کرنے والوں کو زیر غور لایاجاتا ہے۔ درخواست گزار کے وکیل کاکہنا تھا کہ 50فیصد لیکچر براہ راست بھرتی ہوتے ہیں، 25فیصد گریڈ16سے ترقی کرکے گریڈ17میںجاتے ہیں اور 25فیصد پی ٹی آئی، پی ای ٹی اور ڈی پی سے گریڈ 17میں ترقی ہوگی۔ جسٹس سید منصورعلی شاہ کاکہنا تھا کہ سنیارٹی اُس دن سے ہوگی جس دن سے مطلوبہ تعلیم حاصل کی، ترقی توہونی چاہے سنیارٹی کاجھگڑا راستے میں نہیں آسکتا۔
جسٹس سید منصورعلی شاہ کاکہنا تھا کہ فزیکل ایجوکشن ٹیکچر کاکوئی جھگڑا نہیں، سنیارٹی کاجھگڑا اس وقت ہو گا جب لیکچرر بنیں گے، 2017سے سنیارٹی ہوگی۔ جسٹس سید منصورعلی شاہ کاکہنا تھا کہ ہم پروموٹ کردیتے ہیں جھگڑا سنیارٹی کاہوگا۔ جسٹس سید منصورعلی شاہ کاکہنا تھا کہ سنیارٹی لگے گی تودرخواست گزارجانیں اورمحکمہ جانے۔ جسٹس سید منصورعلی شاہ کاکہنا تھا کہ ہم موجودہ رولز کے مطابق ہی فیصلہ کریں گے۔
جسٹس سید منصورعلی شاہ کاکہنا تھا کہ پنجاب اسپیشل ایجوکیشن ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن کے 25 اگست2009کے رولز درخواست گزار پرلاگوہوں گے۔ محکمانہ ترقیاتی کمیٹی کے سامنے درخواست گزار کامعاملہ آیا تاہم محکمانہ نوٹس کی وجہ سے درخواست گزارکی ترقی کامعاملہ ملتوی کردیا گیا۔درخواست گزارنے مطلوبہ تعلیم 2017میں حاصل کی۔ جسٹس سید منصورعلی شاہ کاکہنا تھا کہ محکمانہ نوٹ کی وجہ سے درخواست گزارکی ترقی کامعاملہ ملتوی نہیں کیاجاسکتا، سنیارٹی کی بنیاد پر ترقی ہوگی۔ بینچ نے درخواست گزار کی ہائی کورٹ کے فیصلے خلاف دائر اپیل منظور کرلی۔
عدالت نے محمد اسلم ڈار کی جانب سے پوسٹماسٹر جنرل پنجاب، لاہور اوردیگر کے خلاف خرد برد اور رشوت کی بنیاد پرملازمت سے برخاست کئے جانے کے معاملہ پر دائر درخواست پرسماعت کی۔ دوران سماعت جسٹس سید منصورعلی شاہ کادرخواست گزارکے وکیل اسد منظور بٹ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اس میں کچھ بنتاتونہیں ہے ہمارے پاس عوامی مفادکاسوال نہیں بنتا، ہوگاکچھ نہیں، دوسوال ہیں پڑھ لیں۔
جسٹس سید منصورعلی شاہ کاکہنا تھا کہ حقاق پر مبنی صورتحال میں کیسے مداخلت کریں۔ جسٹس سید منصورعلی شاہ کاوکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ بٹ صاحب! پڑھ توٹھیک سے لیں، لگتا ہے حالات ٹھیک نہیں۔ جسٹس سید منصورعلی شاہ کاکہنا تھا کہ اگر انکوائری آفیسر کی جانب سے جان بوجھ کرشواہد کو درست نہیں دیکھا توپھر عوامی مفاد کاسوال پیداہوگا۔
جسٹس سید منصورعلی شاہ کاکہنا تھا کہ کس پرجرح کرنا چاہ رہے تھے اور جرح نہیں کرنے دی۔ جسٹس سید منصورعلی شاہ کاکہنا تھا کہ نیب کوبیچ میں نہ لائیں پہلے انکوائری میں بتادیں، جودستاویزات پیش ہوئی ہیں وہ کیا، کیا پیش ہوئی ہیں، کیا دستاویزات پرآپ کے دستخط ہیں۔ وکیل کاکہنا تھا کہ ان کے مئوکل پر کوئی خردبردثابت نہیں ہوئی۔ بینچ نے درخواست پر مدعا علیہان کونوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔
جبکہ بینچ نے آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی جانب سے امجد خان، محمد شہزادخان اوردیگر کے خلاف ماضی سے ترقیاں دینے کے معاملہ پر دائر درخواستوں پر سماعت کی۔ درخواست گزار کی جانب سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل راشدین نواز قصوری پیش ہوئے۔
جسٹس سید منصورعلی شاہ کاکہنا تھا کہ فیڈرل سروسز ٹربیونل نے کہا ہے کہ طریقہ کاروضع کردیں کہ کس طرح ان کی پروموشن ہونی ہے، حکومت پر چھوڑا ہواہے جو مرضی کریں۔ جسٹس سید منصورعلی شاہ کاکہنا تھا کہ اب تک 2024سے محکمے نے کیا ہے ،کیسے ترقیاں ہورہی ہیں، اس ہدایت کا کوئی فائدہ نہیں ہوا، اس کونظرانداز کردیا گیا۔ جسٹس سید منصورعلی شاہ کاکہنا تھا کہ 10اپریل 2024کا فیصلہ ہے ہم کہہ دیتے ہیں کہ جلد ازجلد فیصلے پرعملدرآمد کریں۔
جسٹس سید منصورعلی شاہ کاکہنا تھا کہ فیڈرل سروسز ٹربیونل کے فیصلے پر تین ماہ میں عملدرآمد کرکے رجسٹرار سپریم کورٹ کے پاس رپورٹ جمع کروائیں۔ ایڈیشل اٹارنی جنرل نے بینچ سے استدعا کی کہ یہ لکھ دیں کہ حکومت قانون کے مطابق فیصلے پر عملدرآمد کرے۔ اس پر جسٹس سید منصورعلی شاہ کاکہنا تھا کہ پہلے سوال یہ ہوگا کہ فیصلے میں کیا غلطی ہے، فیڈرل سروسز ٹربیونل کی درست ہدایات ہیں۔


