اسلام آباد (ای پی آئی) سپریم کورٹ آف پاکستان میں سوموار 5مئی سے شروع ہونے والے عدالتی ہفتے میں کیسز کی سماعت کے لئے 4آئینی بینچز تشکیل دے دیئے گئے۔ آئینی بینچز آپریشن ضرب عضب کے متاثرین کی بحالی کے لئے 4فیصد سپر ٹیکس کے نفاذ ، فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل ، سپریم کورٹ کے خواتین اوراقلیتوں کی مخصوص نشستیں پاکستان تحریک انصاف کودینے کے فیصلے اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں دیگر ہائی کورٹس سے 3ججز کے تبادلے کے بعد سنیارٹی کے معاملہ پر دائر درخواستوں پرسماعت کریں گے۔

سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں جسٹس جمال خان مندوخیل ، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس سید حسن اظہر رضوی اور جسٹس شاہد بلال حسن پر 5رکنی آئینی بینچ سوموار 5مئی کو دن صبح ساڑھے 9بجے آپریشن ضرب عضب کے متاثرین کی بحالی کے لئے 4فیصد سپر ٹیکس کے نفاذ کے معاملہ پر مختلف ہائی کورٹس کے فیصلوں کے خلاف دائر1939اپیلوں پر سماعت کرے گا۔

جبکہ جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس سید حسن اظہررضوی، جسٹس مسرت ہلالی ، جسٹس نعیم اخترافغان اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل 7رکنی آئینی بینچ سوموار 5مئی کو دن ساڑھے 11بجے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے معاملہ پردائر 38نظرثانی درخواستوں پر سماعت کرے گا۔ اٹارنی جنرل منصورعثمان اعوان بینچ کے سامنے پیش ہوکر دلائل دیں گے۔ اٹارنی جنرل فوجی عدالتوں سے سزا کے خلاف اپیل کاحق دینے اوردیگر معاملات پر بینچ کو آگاہ کریں گے۔ گزشتہ سوموار کے روز اٹارنی جنرل نے بینچ کے سامنے پیش ہوکراستدعا کی تھی کہ انہیں دلائل کے لئے 45منٹ درکار ہوں گے۔ توقع ہے کہ بینچ اٹارنی جنرل کے دلائل سننے کے بعد یا تومختصر حکمنامہ جاری کردے گا یا پھر فیصلہ محفوظ کر لیا جائے گاجو کہ بعد میں سنایا جائے گا۔

جبکہ جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں جسٹس جمال خان مندوخیل ، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ اے ملک، جسٹس سید حسن اظہررضوی، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس نعیم اخترافغا ن، جسٹس عقیل احمد عباسی، جسٹس شاہد بلال حسن، جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور، جسٹس عامر فاروق اور جسٹس علی باقر نجفی پر مشتمل 13رکنی آئینی بینچ پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی، الیکشن کمیشن آف پاکستان، سنی اتحاد کونسل ہما اخترچغتائی اور دیگر کی جانب سے سپریم کورٹ کے خواتین اوراقلیتوں کی مخصوص نشستیں پاکستان تحریک انصاف کودینے کے حکم کے خلاف دائر 7نظرثانی درخواستوں پر منگل 6مئی کو دن ساڑھے 11بجے سپریم کورٹ آف پاکستان کے کمرہ عدالت نمبر 1میں سماعت کرے گا۔

درخواستوں میں چیئرمین سنی اتحاد کونسل،فیصل آباد،صاحبزادہ محمد حامد رضا ، سیکرٹری الیکشن کمیشن آف پاکستان عمر حمید خان اوردیگر کودرخواستوں میں فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست گزاروں کی جانب سے بیرسٹر حارث عظمت، سینیٹر فاروق حمید نائیک، سجیل شہریارسواتی،تیمور اسلم خان اوردیگر بطور وکیل پیش ہوں گے۔

بینچ سپریم کورٹ کے مخصوص نشستوں کی متناسب نمائندگی کے نظام کے تحت تقسیم کے حکم پر عملدرآمد نہ کرنے کے خلاف پاکستان تحریک انصاف کی رہنما کنول شوزب کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ اوردیگر کے خلاف دائر توہین عدالت کی درخواست پربھی سماعت کرے گا۔ درخواست گزار کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ پیش ہوکردلائل دیں گے۔

واضح رہے کہ 26ویں آئینی ترمیم کے تحت آئینی بینچ کی تشکیل کے بعد جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں بینچ پہلی مرتبہ سپریم کورٹ کے کمرہ عدالت نمبر 1میں کیسز کی سماعت کرے گا۔ جبکہ سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں جسٹس نعیم اخترافغان، جسٹس شاہد بلال حسن، جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس شکیل احمد پر مشتمل 5رکنی آئینی بینچ دیگر ہائی کورٹس سے3 ججزکے اسلام آباد ہائی کورٹ میں تبادلہ کے بعد سنیارٹی کے معاملہ پر دائر 12درخواستوں پربدھ 7مئی کو دن ساڑھے 11بجے سپریم کورٹ کے کمرہ عدالت نمبر4میں سماعت کرے گا۔

درخواستیںاسلام آباد ہائی کورٹ کے پانچ ججز سمیت دیگر کی جانب سے دائر کی گئی ہیں۔ درخواست گزاروں کی جانب سے سابق اٹارنی جنرل منیر احمد ملک، بیرسٹر سید صلاح الدین احمد، سینیٹر حامد خان ایڈووکیٹ، فیصل صدیقی ایڈووکیٹ، ادریس اشرف ملک ایڈووکیٹ،محمد شعیب شاہین ایڈووکیٹ اوریگر بطور وکیل پیش ہوں گے۔ جبکہ صدر مملکت، وفاقی حکومت اوردیگر کی جانب سے اٹارنی جنرل منصورعثمان اعوان بینچ کے سامنے پیش ہوکردلائل دیں گے۔