اسلام آباد(ای پی آئی ) پبلک اکانٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی برائے جائزہ و عملدرآمد کا کنوینرکا وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹرطارق فضل چوہدری کی زیر صدارت اجلاس ، ایف بی آر کے 4700 ارب مالیت کے34 ہزار کیسز مختلف عدالتوں میں التواء کا شکار ہونے کا انکشاف،

وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹرطارق فضل چوہدری نے ایف بی آر پر برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ کیا یہ وزیر اعظم کا کام ہے کہ آپ کو وکیل ہائیر کرکے دے؟ آپ لوگوں نے خود یہ کام کیوں نہیں کیا؟

۔اجلاس میں ریونیو ڈویژن سے متعلق سال 2000-01 سے سال 2009- 10 تک کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا ۔آڈٹ حکام نے بتایا کہ رپورٹ میں دس سال کے پیراز ہیں، 59 پیراز ڈے اے سی نے سیٹل کرنے کی سفارش کی ہے، 1600 میں سے 800 آڈٹ پیراز ابھی بھی ڈسکس ہونے ہیں، اس آڈٹ بریف کے30 ارب کے کیسز عدالتوں میں ہیں،بتایا گیا ہے کہ اس وقت ایف بی آر کے 4700 ارب کے 34 ہزار کیسز مختلف عدالتوں میں ہیں،ایف بی آر کی جانب سے مختلف بقایاجات کی ریکوری نہ کئے جانے سے متعلق آڈٹ اعتراض کا جائزہ لیا گیا ۔

کنوینر کمیٹی نے ریکوری کے مکینزم بارے استفسار کرتے ہوئے کہاکہ اس طرح کے کیسز جن میں ریکوری مشکل ہوتی ہے اس میں آپ کے پاس اور کیا آپشن ہیں؟ آپ یہ کیسز نیب یا اینٹی کرپشن کو کیوں نہیں دیتی جن کا کام ہی مفرور لوگوں کو ٹریس کرنا ہے۔

کمیٹی نے آئندہ میٹنگ میں تحریری جواب طلب کرلیا۔ڈاکٹرطارق فضل چوہدری نے کہاکہ کیا یہ وزیر اعظم کا کام ہے کہ آپ کو وکیل ہائیر کرکے دے؟ آپ لوگوں نے خود یہ کام کیوں نہیں کیا؟

ادارہ کیوں اس میں اتنا بے حس ہے کہ اربوں کھربوں روپے لوگ لے کے بیٹھے ہوئیہیں اور ان کی ریکوری نہیں ہو رہی، ادارے میں کیوں اتنی بے حسی ہے، یہ رویہ کیوں ہے؟