نئی دہلی (ای پی آئی ) بھارت کی مودی سرکار عالمی سطح پر رسوائی کے بعد جنگی جنون میں مبتلا ، بھارت میں شہری دفاع کی تین روزہ مشقیں شروع کرنے کا اعلان ۔

بھارتی کی وزارتِ داخلہ نے تمام ریاستوںسے کہا ہے کہ وہ موثر شہری دفاع کے لیے فرضی مشقیں شروع کریں، جن میں فضائی حملے کی وارننگ، سگنلز، کریش بلیک آٹ اقدامات، اہم تنصیبات کو چھپانے اور انخلا کے منصوبے شامل ہیں۔

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے سیکریٹری دفاع راجیش کمار سنگھ سے ملاقات کی، جس کے بعد قومی سلامتی کے مشیر اجیت دووال نے بھی ان کے دفتر میں ملاقات کی۔بھارتی اخبار دی ہندو کے مطابق فرضی مشقیں 7 مئی سے ملک بھر میں شروع کی جائیں گی، اور ممکنہ طور پر 9 مئی تک جاری رہیں گی۔

وزارت داخلہ کے تحت ڈائریکٹوریٹ جنرل، سول ڈیفنس سے وابستہ تقریبا چار لاکھ رضاکاروں کو اس مشق میں شامل کیا جائے گا۔ یہ حکم نامہ پہلگام حملے کے تناظر میں بھارت اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔

سول ڈیفنس ڈپارٹمنٹ 1962 میں چین کے ساتھ بھارت کی جنگ کے بعد قائم کیا گیا تھا۔ زلزلے اور عمارتوں کے گرنے جیسی آفات کے لیے باقاعدگی سے فرضی مشقیں کی جاتی ہیں، لیکن بیرونی خطرے کی صورت میں عوام کو خبردار کرنے کے لیے فضائی سائرن کا استعمال کیا جاتا ہے۔مغربی سرحد سمیت ہر ریاست 7 مئی سے فرضی مشقیں کرے گی، مشقوں کی تفصیلات منگل کو شیئر کی جائیں گی، کچھ ریاستیں بہتر طور پر سامان سے لیس ہیں، اور دیگر کے لیے ہم رہنما خطوط جاری کریں گے۔

اس دوران اہم تنصیبات کو چھپانے کا مطلب پلانٹس اور اہم عمارتوں کے آس پاس کی تمام روشنیوں کو بند کرنا ہے۔ شہری دفاع کے ایک اہلکار کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس شہری دفاع سے وابستہ 4 لاکھ سے زیادہ رضاکار ہیں، ہم مشق کے لیے زیادہ سے زیادہ تعداد کو متحرک کرنے کی کوشش کریں گے،

ریاستی پولیس اپنے دائرہ اختیار میں رضاکاروں کو بھی متحرک کرے گی۔اتوار کو بھارتی پولیس نے پاکستان کی سرحد سے متصل پنجاب کے ضلع فیروز پور میں 30 منٹ کی بلیک آٹ مشق کی تھی، فیروز پور کنٹونمنٹ بورڈ نے ایک ایڈوائزری جاری کی تھی، اور رہائشیوں کو آدھے گھنٹے کے لیے لائٹس بند کرنے کے لیے کہا گیا تھا