اسلام اباد (ای پی آئی )سپریم کورٹ آف پاکستان کے 7 رکنی آئینی بینچ نے سویلینز کے خصوصی عدالتوں میں ٹرائل سے متعلق اہم کیس کا محفوظ شدہ فیصلہ سنادیا ۔ سویلینز کے ٹرائل کو غیر آئینی قرار دینے کے فیصلہ کالعدم قرار ۔

آئینی بینچ کے سربراہ جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں قائم سات رکنی بینچ نے فیصلہ پانچ اور دو کی اکثریت سے سنایا۔

عدالتِ عظمیٰ نے شہداء فاؤنڈیشن کی انٹرا کورٹ اپیلیں قبول کرتے ہوئے سویلینز کے خلاف فوجی عدالتوں میں کارروائی کے حق میں فیصلہ دیا۔فیصلے کے مطابق، آئندہ سویلینز کے خلاف آرمی ایکٹ کے تحت کارروائی ممکن ہوگی، اور خصوصی عدالتوں کا دائرہ اختیار برقرار رہے گا۔

سپریم کورٹ نے آرمی ایکٹ کی شق 2(1)(ڈی)(I)، 2(1)(ڈی)(II) اور 59(4) کو بھی بحال کر دیا ہے، جو سویلین افراد پر عدالتِ عسکریہ کے اطلاق سے متعلق ہیں۔بینچ میں شامل جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس سید محمد نعیم اختر افغان نے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کیا اور الگ نوٹ لکھا۔