اسلام آباد(ای پی آئی )دنیا بھر میں رافیل طیاروں کی تباہی بھارت کے لیےانتہائی شرمندگی کا باعث قرار دیا جارہا ہے ۔

عالمی میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق بھارت فرانسیسی جنگی جہازوں(رافیل)کی موجودگی میں پاکستان پر فضائی برتری محسوس کررہا تھا اور پاکستان کے خلاف ب فضائی رتری کا تمام تر انحصار ان جنگی طیاروں کی بدولت تھا۔ ٹی ارٹی ورلڈ نے ٹوئٹر پر بتایا کہ بھٹنڈہ کی ویڈیو میں طیارے کا جوحصہ نظر آرہا ہے وہ میراج نہیں رافیل ہے ،

فرانسیسی اخبار کے مطابق پاکستان نے بھارتی فضائیہ کی کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔جہاں ایک طرف بین الاقوامی میڈیا اور دفاعی ماہرین اس بات کو تسلیم کر رہے ہیں کہ پاکستان نے بھارتی لڑاکا طیارے مار گرائے ہیں، وہیں بھارت اب بھی اپنے جدید ترین طیارے ʼرافیلʼ کے گرنے کا اعتراف کرنے سے گریزاں ہے۔

ایشین ٹائمز نے لکھا کہ بھارت کے بٹھنڈہ علاقے سے سامنے آنے والی ویڈیوز میں انجن پر ایک مخصوص نوزل اسکرو پیٹرن نظر آتا ہے جو M88 (رافیل طیارے کا انجن) سے میل کھاتا ہے، نہ کہ M53 (میراج 2000 کے انجن) سے۔ٹی آر ٹی کے مطابق، سوشل میڈیا پر شائع کی جانے والی تصاویر میں رافیل طیارے کی دم اور روڈر کے حصے ایک کھیت میں پڑے دکھائی دیے، جو مبینہ طور پر بھارت کی ریاست پنجاب کے بٹھنڈہ علاقے سے ہیں، جو پاکستان سے متصل ہے۔ اس ملبے پر نمبر BS-001 لکھا ہوا تھا، جو ایک سنگل سیٹ رافیل EH کی نشاندہی کرتا ہے۔

سی این این نے ایک اعلیٰ انٹیلیجنس افسر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے بھارتی فضائیہ کے زیرِ استعمال رافیل لڑاکا طیارے کو مار گرایا، اور فرانسیسی حکام اس امر کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا ایک سے زیادہ رافیل طیارے گزشتہ رات پاکستان کے ہاتھوں تباہ ہوئے۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق پاکستان کے پاس زمین سے فضا اور فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائل موجود ہیں، جو بھارتی لڑاکا طیاروں بشمول رافیل کو گرا سکتے ہیں۔

فرانسیسی اخبارلے موند نے لکھا کہ پاکستان میں ہونے والے اس عسکری واقعے نے بھارتی فضائیہ کی کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ "نئی دہلی نے ‘آپریشن سندور’ کے دوران کئی لڑاکا طیارے کھونے کا بالآخر اعتراف کرنا شروع کر دیا ہے۔ عسکری ماہرین کے مطابق کم از کم ایک رافیل ان تباہ شدہ طیاروں میں شامل ہو سکتا ہے، جو فرانسیسی ساختہ اس طیارے کی پہلی جنگی تباہی ہوگی”۔

نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں تین سرکاری اہلکاروں، مقامی میڈیا رپورٹس اور عینی شاہدین کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ "کم از کم دو طیارے” بھارت اور مقبوضہ کشمیر میں گرے۔

برطانوی نیوز ایجنسی نے دو امریکی اہلکاروں کے حوالے سے بتایا کہ ایک چینی ساختہ پاکستانی لڑاکا طیارے نے بدھ کے روز کم از کم دو بھارتی فوجی طیارے مار گرائے۔ ترکی کے ٹی ار ٹی ورلڈ کے ایک مضمون میں کہا گیا کہ "اگر بھارتی طیاروں کے گرنے کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ نئی دہلی کی عسکری ساکھ کو شدید دھچکا ہوگا، اور پاکستان کی جدید چینی ساختہ J-10C جیٹوں کی فضائی برتری کو غلط طور پر کم سمجھنے کی سنگین غلطی کا اشارہ ہوگا۔”