اسلام آباد (ای پی آئی )اسلام آباد ہائیکورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس میں بانی پی ٹی آئی کی پیرول پر رہائی کی درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات کے ساتھ سماعت ۔
دوران سماعت بانی پی ٹی آئی کے وکیل لطیف کھوسہ نے عدالت سے استدعا کی کہ پیرول پر رہائی کی درخواست کو سزا معطلی کیس کے ساتھ فکس کیا جائے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ درخواست کی قابلِ سماعت ہونے کا فیصلہ عدالت کو کرنا ہے، اسسٹنٹ رجسٹرار کا یہ دائرہ اختیار نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسا تاثر دیا جا رہا ہے کہ ایک شخص کو انصاف نہیں مل رہا، جو کہ خطرناک رجحان ہے۔
قائممقام چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ بانی پی ٹی آئی کو ٹرائل کورٹ سے سزا ہو چکی ہے اور وہ سزا یافتہ ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو اعتراضات لگائے گئے ہیں ان پر عدالتی حکم جاری کیا جائے گا۔
سماعت کے دوران وکیل نیازاللہ نیازی نے بتایا کہ توہین عدالت کی سات درخواستیں بھی زیر التوا ہیں، جبکہ 190 ملین پاؤنڈ سزا معطلی کی سماعت بھی تاحال مقرر نہیں ہوئی۔
لطیف کھوسہ نے عدالت سے زور دیا کہ پیرول کیس بھی انہی کے ساتھ فکس کیا جائے۔قائم مقام چیف جسٹس نے واضح کیا کہ پیرول پر رہائی ایک مختلف نوعیت کا معاملہ ہے اور اس پر الگ سے فیصلہ کیا جائے گا۔
عدالت نے اس موقع پر مشورہ دیا کہ حکومت کے زیر اختیار معاملے کو عدالت میں لانے کے بجائے متعلقہ فورم سے رجوع کیا جائے۔


