اسلام آباد (ای پی آئی ) ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کی زیر صدارت جاری سینیٹ اجلاس کے دوران سینیٹر فیصل واوڈا نےاظہار خیال کرتے ہوئے ملک کی سلامتی اور دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانے کیلئے دفاعی بجٹ میں دو سے تین گنا اضافے کی پرزور تجویز دے دی۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنا پیٹ کاٹ کر دفاعی بجٹ کو بڑھانا پڑے گا، ہمیں ترقیاتی منصوبوں کی بجائے اب دفاع پر توجہ مرکوز کرنی ہو گی۔فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ افواج پاکستان کی تنخواہوں کو دوگنا کرنا وقت کی ضرورت ہے اور بھارت کے مقابلے کے لیے حکمت عملی پر بھی سنجیدہ سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بھارت سے جنگ کو منطقی انجام تک پہنچا کر ہی ہمیں ترقی کے بارے میں سوچنا چاہیے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم محفوظ ہاتھوں میں ہیں اور قوم متحد ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ بجٹ کو کیسے دو یا تین گنا کیا جائے۔
سینیٹر فیصل واوڈا نے بھارتی جارحیت پر پاکستان کے منہ توڑ جواب کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ پاک افواج نے حالیہ معرکہ میں دشمن کے 285 اہلکاروں کو ہلاک کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاک فوج نے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیت کا بھرپور مظاہرہ کیا اور چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر کی واضح ہدایت تھی کہ کسی سویلین کو نقصان نہ پہنچے۔فیصل واوڈا نے کہا کہ بھارت پاکستان کو کمزور سمجھ بیٹھا تھا، لیکن ہماری افواج نے جرات مندانہ جواب دے کر دشمن کو اس کی اوقات یاد دلا دی۔ ہم ہندوستان کے سامنے اپنی طاقت واضح کرچکے ہیں۔
فیصل واوڈا نے اپوزیشن کے کردار پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپوزیشن کو اعتماد میں لے۔ یہ سب کچھ اپوزیشن کو ساتھ ملائے بغیر ممکن نہیں ہوگا۔فیصل واوڈا نے حکومت پر زور دیا کہ وہ دل بڑا کرے اور اپوزیشن سے اختلافات کو طے کرنے کیلئے سنجیدگی سے بات چیت کرے۔انہوں نے اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ بھارت کی فوج کی تعداد ہم سے زیادہ ہے، لیکن ہم نے ابھی تک اپنا بھرپور دفاع کیا ہے اور ہماری قوم اور فوج ہر سطح پر تیار ہے۔
اجلاس کے دوران سینیٹ نے سینیٹر آغا شاہزیب درانی کی تحریک کو متفقہ طور پر منظور کر لیا جس کے تحت سانحہ خضدار پر بحث کے لیے وقفہ سوالات معطل کر دیا گیا۔اس موقع پر سینیٹر انوار الحق کاکڑ نے جذباتی تقریر کرتے ہوئے کہا کہ معصوم بچوں کی شہادت کا دلخراش واقعہ ہوا ہے اور ہمیں اس پر آواز اٹھانے دی جائے۔ انہوں نے آر ایس ایس اور بی جے پی کی شدت پسند سوچ کو پاکستان پر حملوں کا ذمہ دار قرار دیا۔
انوار الحق کاکڑ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کی تقریر ختم کرنے کی ہدایت پر برہم دکھائی دیے اور کہا، ’اگر یہاں بات نہیں کرنی تو پھر ٹک ٹاک یا یوٹیوب بنانا شروع کر دوں؟‘خضدار میں اسکول جاتی تین معصوم بچیوں کی شہادت کو سینیٹر عرفان صدیقی نے انسانیت کے خلاف بدترین جرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ خضدار میں جو واقعہ ہوا اس کی مذمت کے لیے الفاظ نہیں۔
انہوں نے کہا کہ کرہ ارض پر کوئی اتنا سنگدل کیسے ہوسکتا ہے؟ یہ کون سے حقوق مانگے جا رہے ہیں؟ معصوم بچیوں کو اسکول جاتے ہوئے شہید کر دینا درندگی ہے۔عرفان صدیقی نے کہا کہ اس دہشتگردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے، جو نہ صرف ان گروہوں کو فنڈنگ دے رہا ہے بلکہ اسلحہ اور تربیت بھی فراہم کرتا ہے۔سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ بھارت ہمارا دشمن ہے جس میں دشمنی کا بھی سلیقہ نہیں، اور اب وقت آ گیا ہے کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر دیا جائے۔انہوں نے زور دیا کہ یہ دہشتگرد کسی ناراضی یا حقوق کے لیے نہیں، بلکہ ایک پیشہ ورانہ سلسلہ بنا چکے ہیں، اور ان کے ساتھ کسی قسم کی ہمدردی نہیں برتی جانی چاہیے۔عرفان صدیقی نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہماری تین بچیوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا، اس خون سے جو انقلاب آئے گا وہ بھارت کو بہت تکلیف دے گا۔ان کا کہنا تھا کہ یہ دہشتگرد ہیں، ان کو کچلا جائے، ان پر رحم نہ کیا جائے، اور نہ ہی ان کی حمایت میں کوئی آواز اٹھنی چاہیے۔
سینیٹر شیری رحمان نے بھی واقعے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ بچوں کو اسکول جاتے ہوئے نشانہ بنایا گیا، یہ کھلی دہشتگردی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑی اور قربانیاں دیں، ہم نے محترمہ بینظیر بھٹو کو دہشتگردی میں کھویا، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے کئی لوگ شہید ہوئے۔
شیری رحمان نے بھارت کی مداخلت کے ثبوتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کلبھوشن یادیو کی گرفتاری اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت پاکستان میں دہشتگرد کارروائیوں میں ملوث ہے، لیکن بھارت آج تک کسی واقعے کا کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکا۔انہوں نے کہا کہ 87 گھنٹے کی حالیہ جنگ میں بھی بھارت نے عام شہریوں کو نشانہ بنایا، جب کہ پاکستان نے صرف فوجی اہداف پر جواب دیا۔


