اسلام آباد (ای پی آئی )پیٹرن انچیف پی ٹی آئی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کی سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ
جج صاحب کو سوچنا چاہیے تھا کہ عمران خان ایک عام آدمی نہیں ہے اس کے لئے سارے قانون ساز آکر کھڑے ہوئے ہیں تو جج صاحب کو سختی کرنی چاہیے تھی نیب پراسیکیوٹر پر جس نے آکر کہہ دیا کہ مجھے رات ہی پتہ چلا ہے انھوں نے کہا کہ جج صاحب کو کہنا چاہیے تھا کہ آپ جائیں پراسیکیوٹر جنرل کو 2 گھنٹے کے اندر یہاں پیش کریں کیونکہ پہلے وہی اس کے وکیل تھے لیکن جج صاحب نے ایسا نہیں کہا اور 11 جون کی ڈیٹ دیدی ہے ۔

علیمہ خان کا کہنا تھا کہ اب اگلی ڈیٹ 11 جون کو پھر یہی پراسیکیوٹر آکر کہتا ہے مجھے رات کو پتہ چلا ہے اور 5 والیوم ابھی میں نے پڑھنے ہیں تو پھر یہ تاریخ 18 جون تک آگے جا سکتی ہے یہ چوری شدہ مینڈیٹ کی حکومت ہے انہی کے لوگ ہیں کوئی آزاد ادارہ نہیں ہے اور یہ وہی کریں گے جو اوپر سے ان کو حکم آئے گا کیونکہ عمران خان کو انھوں نے نہیں نکالنا اس لئے سارے لیگل راستےاوررول آف لاء کو ختم کر دیا ہے۔اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کے صدر واجد گیلانی جن کو وکلاء نے اس اعتماد کے ساتھ ووٹ دیا کہ وہ رول آف لاء کے لیے اور 26ویں ترمیم اور ججز سے جو ان کی خودمختیاری چھین لی گئی ہے اسکےخلاف آواز بلند کرے گا ۔لیکن وہ صدر بننے کے بعد نہ صرف 26 ویں ترمیم کے ساتھ کھڑا ہو گیا بلکہ 27ویں ترمیم کے ساتھ کھڑا ہونے کی بات کر رہا ہے

علیمہ خان کا کہنا تھا کہ جو شخص لوگوں سے عہد کر کے ووٹ لیتا ہے اور پھر عہد پر قائم نہیں رہتا تو اس نے اپنا ضمیر کتنے میں فروخت کیا ہوگا ؟وکلاء کہتے ہیں کہ شاید دو ڈھائی کروڑ میں اس نے اپنا ضمیر بیچ دیا لیکن میں کہتی ہوں کہ جب رول آف لاء بیچا ہے تو اس کی قیمت تو ٹھیک لگادو ۔اتنا سستا رول آف لاء بیچ رہے ہو ؟علی بخاری، شعیب شاہین ،نیاز اللہ نیازی نے بار ایسوسی ایشن کے صدر واجد گیلانی کے خلاف عدم اعتماد لے کر آئیں گے اور اس کے خلاف پوری مہم چلائی جائے گی کیونکہ جنہوں نے اس کو ووٹ دیا ہے ۔کیونکہ اب ہم اپنے اندر سے اصلاح کریں گے اور ایسی کالی بھیڑوں کو اٹھا کے باہر نکالیں گے کیونکہ یہ لائرز نہیں ہیں بلکہ یہ دھندہ کرنے آئے ہیں۔ یہ لاء کو بیچنے آئے ہیں۔

صحافی کی جانب سے سوال کیا گیا کہ سلمان صفدر نے بڑا اہم نقطہ اٹھایا ہے کہ عمران خان کے خلاف فیصلہ آنے سے پہلے ہی سب کو معلوم ہو جاتا ہے کہ فیصلہ کیا ہوگا،تو اس حوالے سے آپ کیا گہیں گی جس کے جواب میں علیمہ خان کا کہنا تھا کہ یہ کوئی حیران کن بات نہیں ہے کیونکہ آپ کو پتہ ہے کہ فیصلہ پہلے کر کے بھیجتے ہیں اور آپ دیکھیں کہ جو پراسیکیوٹر نے کہا ہے کہ مجھے رات کو پتہ چلا ہے ۔تو آپ کو پتہ ہونا چاہیے کہ یہاں رول آف لاء نہیں ہے اور یہ صرف عمران خان کے ساتھ نہیں ہوگا بلکہ پوری پاکستانی قوم کے ساتھ کسی بھی کیس میں ہم آئیں گے ہمارے ساتھ یہی ہوگا ان عدالتوں میں ۔

صحافی کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کے خلاف کیس کی سماعت ستمبر تک ملتوی ہونے کے خدشے پر انھوں نے کہا کہ ہمارے وکلاء نے کہا ہے کہ جولائی میں چھٹیاں آجائیں گی تو ہم نے اسی مہینے عمران خان کے لیے ریلیف لینا ہے ،انھوں نے کہا کہ یہ کیس صرف آدھے گھنٹے کا ہے یا ڈیڑھ گھنٹے کا ہے ب اور اس کے بعد ضمانت کا فیصلہ آجانا چاہیے

ایک اور سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ہماری سب سے پہلی ترجیح ہے کہ اپنے اندر سےکالی بھیڑیں نکالیں جو رول آف لاء اور 26ویں ترمیم کے ساتھ کھڑی ہیں کیونکہ عہد کر کے آتے ہیں کہ خلاف ہیں لیکن ساتھ دینا شروع کر دیتے ہیں ۔ سب سے پہلےجو رول آف لاء کے محافظ ہیں س وہ اصلاح کر یں اس کے لئے سب وکلاء کو اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے ساتھ کھڑے ہونا چاہیے ۔ کیونکہ آپ لوگ ہم لوگوں کو کیسے انصاف دیں گے جب آپ جا کر اپنے جو رول آف لاء کے خلاف کھڑے ہو جائیں گے۔

صحافی کی جانب سے 26 ویں ترمیم کے بعد پارٹی کے ممبران اسمبلی کو جاری شوکاز نوٹسز کے حوالے سے جواب میں علیمہ خان کا کہنا تھا کہ انصاف کی اور ضمیر کی تربیت آپ اپنے گھروں سے لے کر آتے ہیں یہ پارٹی کا کام نہیں ہوتا کہ آپ کے ماں باپ کی طرح اصلاح کریں، ماں باپ نے بچوں کو سکھانا ہے کہ آاپ نے چوری، ڈاکو، ضمیر نہیں بیچنا یہ سب گھر تربیت لے کرآنی چاہیے ۔

ریلیف کے حوالے سے سوال پر علیمہ خان نے کہا کہ اگر ہمیںاللہ کے اوپر یقین ہے تو انصاف اور یہ سب کچھ وہ اللہ نے کرنا ہے۔ یہ جو مرضی پلاننگ کر لیں۔ انشاءاللہ اللہ کا پلان جو ہے نا وہ صرف اللہ تعالی کو پتہ ہے۔ ان لوگوں کے ہاتھ میں نہیں ہے۔