اسلام آباد (ای پی آئی )پیٹرن انچیف عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کو ایک بار پھرملاقات کرنے سے روکدیا گیا . جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان کا کہنا تھا کہ
مریم نواز کا خیال ہوگا کہ عمران خان کے ساتھ ملاقات کرنے سے روکنے سے شائد ہم گھبرا جائیں گے ۔لیکن عمران خان اگر اس گرمی میں ناجائز قید برداشت کر سکتے ہیں تو ہم بھی ساتھ کھڑے ہو سکتے ہیں اور وہ نہ ہمیں تھکا سکیں گے اور نہ ہی ہمیںڈرا سکیں گے کیونکہ اگر ہم انشاءاللہ حق کے ساتھ کھڑے رہیں گے تو اللہ تعالی ہمارے ساتھ ہے
علیمہ خان کا کہنا تھا کہ یہ لوگ اتنے زیادہ خوفزدہ ہیں کہ خواتین اور بزرگوں کو روکنے کے لئے پولیس کی بھاری نفری کے ساتھ 3 تین ناکے لگوا رکھے ہیں اور ہم تو اس پہ فخر کر رہے ہیں کہ دیکھیں ہمارے لیے کتنی پولیس لگائی ہوئی ہے انھوں نے کہا کہ آپ ان کے خوف کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ یہ بزرگ خواتین سے ڈرتے ہیں
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ یہ لوگ ایک دو دن ٹھیک سے ملاقات کروا دیتے ہیں تاکہ لوگ یہاں سے چلے جائیں اس کے بعد یہ پھر یہ پہلے والی پوزیشن پر آجاتے ہیں تو جتنا یہ کریں گے ہم اتنا ہی ڈٹیں رہیں گے صحافی کی جانب سے احتجاجی تحریک کے حوالے سے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ جب شدید گرمی میں ڈیڑھ کلو میٹر چل سکتے ہیں اس عمر میں تو جوان بچے تو ماشاءاللہ انھیں تو کوئی فرق نہیں پڑتا
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ہمارا مقصد صرف ایک ہے اور وہ ہے عمران خان جو کہ ناحق جیل میں ہے اور ہم اس کے لیے کھڑے رہیں گے یہ ہمیں جتنی مرضی دھمکیاں دے لیں اور جتنی مرضی ہمارے ساتھ یہ ظلم کریں ۔اب تو ہمیں جیلوں کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں تو انھوں نے اگر جیل میں ڈالنا ہے تو ڈال دیں
صحافی کی جانب سے آرمی چیف کے خلاف امریکہ میں احتجاج کے حوالے سے سوال پر انھوں نے کہا کہ
احتجاج تو آئینی حق ہے کہیں پر بھی کیا جا سکتا ہے اور کسی کے خلاف بھی کیاجا سکتا ہے ،کیا صرف لوگوں کے نمائندوں کے خلاف احتجاج کیا جا سکتا ہے ؟کیا ظلم کرنے والوں کے خلاف احتجاج نہیں کرنا چاہیے ؟تو وہ پھر ظالم حکومت ہی ہو گئی کہ جو فیصلہ کرتی ہے کہ کس کے خلاف احتجاج کرنا ہے اور کس کے خلاف نہیں۔۔۔۔۔


