اسلام آباد (ای پیآئی) لاء اینڈ جسٹس کمیشن نے مالی سال 2024-25 کے لیے انصاف تک رسائی ( ایکسس ٹو جسٹس) ڈویلپمنٹ فنڈ کے سالانہ حسابات کی منظوری دیدی ہے۔
چیف جسٹس آف پاکستان/چیئرمین لاء اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت کمیشن کا 45واں اجلاس آج سپریم کورٹ آف پاکستان میں منعقد ہوا۔ کمیشن نے تمام شہریوں کے لیے قابلِ رسائی اور منصفانہ نظامِ انصاف کو یقینی بنانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا اور عدالتی معیارِ فضیلت اور پاکستان میں ایک منصفانہ و عادلانہ معاشرے کے قیام کے لیے اپنی غیر متزلزل وابستگی کو اجاگر کیا۔
اجلاس میں ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان، اٹارنی جنرل برائے پاکستان اور سیکرٹری وزارتِ قانون و انصاف نے بطور ایکس آفیشیو ممبران شرکت کی۔ اس کے علاوہ سپریم کورٹ کے سینیئر وکلاء مخدوم علی خان، خواجہ حارث احمد، کامران مرتضیٰ اور محمد منیر پراچہ نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔
کمیشن نے اپنے 44ویں اجلاس میں کیے گئے فیصلوں پر عملدرآمد کا جائزہ لیا، بالخصوص ان اصلاحات پر پیشرفت جو لاء ریفارمز کی ایڈوائزری کمیٹی نے کی ہیں، جس میں سیکرٹری وزارت قانون و انصاف اور نامور وکلاء شامل ہیں۔
کمیٹی نے خاندانی قوانین اور ضابطہ فوجداری 1898 میں اصلاحات کی ضرورت و اہمیت کو تسلیم کیا۔ کمیشن نے کمیٹی کے قابلِ تعریف کام کو سراہا اور توقع ظاہر کی کہ متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے یہ کمیٹی خاندانی تنازعات اور فوجداری مقدمات کے حوالے سے نظامِ انصاف کی سروس ڈلیوری کو بہتر بنانے کے لیے قابلِ عمل سفارشات تجویز کرے گی۔
کمیشن نے مالی سال 2024-25 کے لیے انصاف تک رسائی ( ایکسس ٹو جسٹس) ڈویلپمنٹ فنڈ کے سالانہ حسابات کی منظوری دی۔
ادارہ جاتی ترقی اور LJCP کی کارکردگی میں مزید بہتری کے لیے کمیشن نے ایک کمیٹی تشکیل دی جو LJCP ایمپلائز سروس رولز 1992 کا جائزہ لے کر انتظامی کارکردگی اور پرفارمنس مینجمنٹ کو بہتر بنانے کے لیے اصلاحات تجویز کرے گی