اسلام آباد(ای پی آئی) سپریم کورٹ آف پاکستان میں اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم پاکستان اور انکی اہلیہ بشری بی بی کی ضمانت کیلئے دائر 8 درخواستوں کی سماعت جاری ہے. چیف جسٹس یحییٰ خان آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ سماعت کررہا ہے.
سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر پیش ہوئے، جب کہ پنجاب کے اسپیشل پراسیکیوٹر ذوالفقار نقوی نے ریاست کی نمائندگی کی۔
کیس کی سماعت کا آغاز ہوا تو چیف جسٹس نے پراسیکیوٹر سے کہاکہ پراسیکیوٹر صاحب آپ سے دو سوال ہیں ۔۔اس دوران چیف جسٹس نے سلمان صفدر کو بیٹھنے کا کہتے ہوئے کہا کہ ابھی پراسیکیوٹر سے دو سوال کرنے ہیں۔۔۔
پراسیکیوٹر ذوالفقار نقوی نے موقف اپنایا کہ وہ کل علالت کے باعث پیش نہ ہو سکے تو چیف جسٹس نے کہا کہ کوئی بات نہیں۔
سپیشل پراسیکیوٹر نے عدالت سے درخواست کی کہ مجھے اجازت دی جائے کہ کیس کے میرٹس پر عدالت کی معاونت کروں،تو چیف جسٹس نے کہاکہ ہم کیس کے میرٹس پر کسی کو دلائل کی اجازت نہیں دیں گے،آپ صرف سازش کے متعلق قانونی سوالات کے جواب دیں.
دوران سماعت سائفر کیس اور اعجاز چوہدری کی ضمانت کے فیصلوں کے حوالہ دیتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے کہاکہ سپریم کورٹ نے نو مئی کے ایک کیس میں سازش کے الزام کے باوجود ضمانت دی، ہمیں اس فیصلے کے بارے میں بتائیں،سازش کے حوالے سے کیس میں سپریم کورٹ نے تین ملزمان کو ضمانت دی، سازش کے ایک کیس میں ملزمان ایف آئی آر میں نامزد نہیں تھے،
سپیشل پراسیکیوٹر ذوالفقار نقوی کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے 2014 میں ایک فیصلے میں فریم ورک طے کیا، اس فیصلے میں قرار دیا گیا ضمانت کے کیس میں دی گئی آبزرویشنز عارضی نوعیت کی ہوتی ہیں، سن 1996 اور سن 1998 میں ضمانت کے مقدمات میں یہی اصول اپنایا گیا کہ ضمانت میں دی گئی آبزرویشنز عارضی ہوتی ہیں،
عدالتی فیصلوں میں قرار دیا گیا ضمانت میں دی گئی آبزرویشنز ٹرائل کو متاثر نہیں کرتیں، ذوالفقار نقوی نے بتایا کہ سن 2022 میں محمد رفیق بنام اسٹیٹ کیس میں بھی یہی اصول طے کیا گیا. 1996 سے لیکر 2024 تک سپریم کورٹ نے مختلف فیصلوں میں قرار دیا ضمانت میں دی گئی آبزرویشنز عارضی نوعیت کی ہوتی ہیں،
کیس کی سماعت میں ساڑھے گیارہ بجے تک وقفہ کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے کہاکہ دونوں فریقین سمجھ لیں کیس کے مرکزی حقائق پر بات نہیں کرنے دیں گے کیونکہ کیسز کے میرٹس ٹرائل کورٹ نے خود طے کرنے ہیں.
کیس کی سماعت میں وقفے تک کا احوال دیکھنے کیلئے سینئر صحافی ثاقب بشیر کا یہ وہ لاگ بھی دیکھ سکتے ہیں.
وقفے کے بعد ساڑھے گیارہ بجے کیس کی سماعت کا آغاز ہوا.
دوران سماعت پراسیکیوٹر پنجاب حکومت کو اعجاز چوہدری کیس کا حوالہ دینا اس وقت مہنگا پڑ گیاجب جسٹس حسن اظہر رضوی نے سوال اٹھایا کہ کیا اعجاز چوہدری موقع پر موجود تھے؟
پراسیکیوٹر نے جواب دیاکہ اعجاز چوہدری کی موقع پر موجودگی کا ٹھوس جواب دینے کی پوزیشن میں نہیں.
فاضل جج جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہاکہ آپ پراسیکیوٹر ہیں اور بنیادی بات کابھی علم نہیں،
سماعت سے قبل بینچ کی تبدیلی
قبل ازیں سپریم کورٹ میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی 9 مئی کے 8 مقدمات میں ضمانتوں کی درخواستیں سننے والا بینچ تبدیل کردیا گیا ۔
3 رکنی بینچ میں جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کی جگہ جسٹس حسن اظہر رضوی کو شامل کرلیا گیا،
اس سے قبل 12 اگست کو چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں جسٹس محمد شفیع صدیقی اور میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے عمران خان کی ضمانت کی درخواستوں کی سماعت کی تھی۔