اسلام آباد (ای پی آئی ) اسلام آباد کے جوڈیشل میجسٹریٹ نے پیکا قانون کے تحت گرفتار صحافی خالد جمیل کیخلاف مقدمہ خارج کرتے ہوئے انہیں ڈسچار ج کرنے کا حکم سنایا ہے.
اسلام آباد کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس کمپلیکس میں پیکا قانون کے تحت گرفتار صحافی خالد جمیل کو پیش کیا گیا۔
صحافی خالد جمیل کو جوڈیشل مجسٹریٹ مرید عباس کی عدالت پیش کر کے جسمانی ریما نڈ کی استدعا کی گئی۔
ایڈوکیٹ ایمان مزاری نے خالد جمیل کی جانب سے پیش ہو کر عدالت میں سوال کیا کہ کون سی انکوائری ہوئی، کون سا سمن جاری کیا گیا، یہ استغاثہ سے پوچھا جانا چاہیے، ان سے پوچھیں۔
وکیل ہادی علی چٹھہ نے عدالت کو بتایا کہ ایف آہی آر جس بات پر درج کی گئی وہ ٹویٹ بھی تسلیم کرتے ہیں اور کانٹینٹ کو بھی تسلیم کرتے ہیں، جو کچھ لکھا گیا وہ تاریخ کا حصہ ہے۔ایف آئی آر میں خالد جمیل کی سیاچن، کارگل سے متعلق ٹویٹ کا ذکر ہے۔
وکلا نے عدالت کو بتایا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے سیکشن 20 کالعدم قرار دے دیا تھا، جو کچھ ٹویٹ میں لکھا گیا اس سے متعلق الجزیرہ کا آرٹیکل بھی ہے۔
ایف آئی اے حکام نے استدعا کی کہ سوشل میڈیا اکاؤنٹ ریکور کرنا ہے۔
وکلا نے صحافی خالد جمیل کے جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ موبائل فون تفتیشی ایجنسی کے پاس ہے۔
عدالت نے محفوظ کیا گیا فیصلہ سناتے ہوئےصحافی خالد جمیل کو مقدمے سے ڈسچارج کر دیا۔