اسلام آباد(ای پی آئی) وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسیت (فوسپا) نے ایک اہم فیصلہ دیا ہے کہ ملازمین کی مسلسل اور ضرورت سے زیادہ سی سی ٹی وی نگرانی کو بھی دفتری ہراسگی سمجھا جا سکتا ہے۔
یہ فیصلہ سنیِم افشین بنام اظہر عباس، سی ای او یاشل انگلش ہاؤس کے کیس میں آیا۔ شکایت کنندہ نے الزام لگایا کہ اُنہیں حد سے زیادہ نگرانی اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ ثبوت دیکھنے کے بعد وفاقی محتسب نے قرار دیا کہ ملزم نے بلا وجہ اور جان بوجھ کر نگرانی کی، یہاں تک کہ سی سی ٹی وی کی اسکرین شاٹس شکایت کنندہ کو بھیج کر ایک خوفناک اور دباؤ والا ماحول پیدا کیا۔
وفاقی محتسب فوزیا وقار نے اس رویے کو قانون کے مطابق ہراسگی قرار دیتے ہوئے سنیِم افشین کو 50 ہزار روپے ہرجانے کی ادائیگی اور ملزم پر سرزنش کی سزا سنائی۔ اس کے ساتھ ساتھ لازمی دفتری اصلاحات کا بھی حکم دیا گیا، جن میں انکوائری کمیٹی بنانا اور ضابطۂ اخلاق کو انگریزی اور اردو دونوں زبانوں میں نمایاں جگہ پر آویزاں کرنا شامل ہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ہراسگی صرف ناپسندیدہ رویے تک محدود نہیں بلکہ ایسا ہر عمل ہے جو وقار اور نجی زندگی کو متاثر کرے یا دفتر میں خوف اور دباؤ پیدا کرے۔