تل ابیب (ای پی آئی) اسرائیل کے معروف جریدے ٹائمز آف اسرائیل پر شائع ہونے والا مضمون، جو چند گھنٹوں میں ہی ویب سائٹ سے ہٹا دیا گیا، خطے میں جاری خفیہ جنگ اور پراکسی نیٹ ورکس کے اہم پہلوؤں کو آشکار کرتا ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ ایرانی مخالف تنظیم مجاہدین خلق کو اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد اور مغربی طاقتوں کی مدد حاصل رہی ہے، جس کے ذریعے ایران کے اندر تخریبی کارروائیاں، جاسوسی اور سائنسدانوں کی ٹارگٹ کلنگ جیسے اقدامات کیے گئے۔
تاریخی طور پر مجاہدین خلق ایران میں دہشت گرد کارروائیوں، اعلیٰ شخصیات کے قتل اور ایران عراق جنگ میں صدام حسین کے ساتھ تعاون کے لیے بدنام رہی ہے۔ اگرچہ اسے ایک وقت میں امریکہ اور یورپی یونین کی دہشت گرد فہرست میں شامل کیا گیا تھا، 2012 میں اس پر سے پابندیاں ہٹا دی گئیں، جس کے بعد مغرب میں اس کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا۔
رپورٹ کے مطابق موساد نے اس گروہ کو مالی امداد، ہتھیار اور خفیہ سہولتیں فراہم کیں تاکہ ایران کے ایٹمی پروگرام کو نقصان پہنچایا جا سکے۔ ایران اس انکشاف کو اپنی قومی سلامتی کے خلاف جاری بیرونی سازشوں کا ثبوت قرار دے سکتا ہے، جبکہ اسرائیل کے لیے اس رپورٹ کا حذف ہونا ظاہر کرتا ہے کہ وہ اس معاملے کو عالمی سطح پر اجاگر ہونے سے روکنا چاہتا ہے۔
یہ معاملہ خطے میں جاری پراکسی جنگ، خفیہ نیٹ ورکس اور میڈیا مینیپولیشن کے بڑھتے ہوئے رجحانات کی واضح مثال ہے، جو نہ صرف ایران بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کی سلامتی کے لیے چیلنج بنے ہوئے ہیں۔