اسلام آباد(محمداکرم عابد) پارلیمانی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی جنیداکبرکے استعفے کے باعث تین ماہ غیر فعال رہنے کے بعددوبارہ متحرک ہوگئی ،ریکوزیشن کی بنیادپراجلاس طلب کرلیا گیا ۔

قائمقام چیئرپرسن شاہدہ اخترعلی کی صدارت میں اجلاس ہوا جس میں گیارہ ہزارارب روپے کی بے قاعدگیوں سے متعلق آڈیٹرجنرل کی رپورٹ پر تمام وزارتوں سے انکوائری رپورٹس طلب کرلی گئیں۔پاور ڈویژن سے متعلق سال 2022-23 کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیاگیا۔اجلاس کے دوران اووربلنگ کی مد میں آٹھ ارب سے زائد ریونیو جمع کرانے کا انکشاف ہوا ہے۔آڈٹ حکام نے تصدیق کردی ہے کہ استعمال شدہ یونٹس سے زیادہ اووربلنگ کرکے صارفین کو آٹھ ارب سے زائد کا نقصان ہوا ۔ ایک ہزار سے زائد فیڈرز پر ڈسٹری بیوٹرز کمپنیز نے اووربلنگ کی۔

رکن کمیٹی حسین طارق نے کہا کہ سسٹم کی خرابی کی سزا غریب لوگوں کو کیوں دے رہے ہیں۔ فیڈرز بند کرنے کیلئے آپ رینجرز کو بھی بھیج دیتے ہیں ۔فیسکو حکام کمیٹی کے سامنے واضح جواب نہ دے سکے۔آڈیٹر جنرل نے کہا کہ جو فیڈر زیادہ بل دیتا ہے اس کو مزید زیادہ چارج کیا جاتا ہے ،فیسکو حکام اصل بات نہیں کر رہے ۔ارکان نے اتنی اووربلنگ کومجرمانہ فعل قراردےدیا،ارکان کا کہنا تھا کہ سیکٹری صاحب یہ کام آپ کی ناک کے نیچے ہورہا ہے.

حسین طارق نے کہاکہ پتہ نہیں یہ سی ای اوز کیسے لگائے جاتے ہیں ، پی اے سی نے اووربلنگ کا معاملہ ذیلی کمیٹی کو بھیج دیا ۔اجلاس میں بجلی فراہم کرنے والی کمپنیوں کے واجبات کی تفصیلی رپورٹ پیش کردی گئی جب کہ جینکوکے کارکردگی آڈٹ کی ہدایت کردی گئی ہے ۔

رپورٹ کے مطابق فیسکو نے 758ملین سے زائد،جیپکونے526،حیسکو1732،آئیسکو1055،لیسکو1802،میپکو75،پیسکونے2396سی طرح کیسکونے94ملین روپے سے زائد کی صارفین سے اوورچارچنگ کرتے ہوئے 33کروڑ85لاکھ سے زائد اضافی یونٹس ڈال دیئے گئے۔اسی طرح7694صارفین پر انرجی کنکشنزکی مدمیں ساڑھے بیس ارب روپے کا اضافی بوجھ بھی مجازاتھارٹی کی اجازت کے بغیر ڈال دیا گیا اس میں تمام 9کمپنیاں ملوث ہیں ۔

وزراتی انکوائری مکمل نہ ہونے پر کمیٹی نے اظہار برہمی کرتے ہوئے پی اے سی نے اس ضمن میں وزارت توانائی کو دوماہ کی مہلت دے دی ہے پی اے سی نے تمام وزارتوں سے بے قاعدگیوں، بدعنوانیوں کی تحقیقات سے متعلق اپنے فیصلوں پر عملدرآمد کی رپورٹس بھی مانگ لی ہیں ،پی اے سی نے مختلف مالیاتی اسیکنڈلز،بدعنوانیوں ، بے ضابطگیوں،اختیارات کے ناجائز استعمال خلاف ضابطہ بھرتیوں کے بارے میں متعلقہ وزارتوں کی تحقیقات کی ہدایت کی تھی مگر اس بارے میں پی اے سی کو تاحال اندھیرے میں رکھا جارہا ہے ۔ اووربلنگ اورکنکشنزکے معاملات میں ناجائز اضافی بوجھ کی بھی وزارت تحقیقات کرنے میں ناکام ثابت ہوئی اسی تناظر میں تمام وزارتوں سے مختلف معاملات کی تحقیقات کے لئے پی اے سی کے احکامات پر عملدرآمد کی رپورٹ مانگی گئی ہے .

اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے قائمقام چیئرپرسن نے کہاکہ آڈیٹرجنرل کی نئی رپورٹ بھی سامنے آگئی ہے وسیع پیمانے پر آڈٹ پیراز بنے ہیں اس لئے بھی پی اے سی کی فعالیت ضروری تھی ،گیارہ ہزارارب سے زائد مالیت کے آڈٹ اعتراضات کے جائزہ کے لئے لائحہ عمل وضح کیا جائے گا ،