اسلام آباد (ای پی آئی) قومی اسمبلی کے لئے 2025ہنگامہ خیزثابت ہوا ۔قانون سازی کے لئے قومی اسمبلی میں سال2025میں55بلز منظور کئے گئے۔
قومی اسمبلی میں رواں برس نعرے گونجتے رہے، آئینی ترامیم کے تنازعات میں حکومت پارلیمانی جماعتوں کے تعلقات کار کو دھچکا لگا ۔مقبول ارکان اسمبلی کو سنسرشپ،بلیک آوٹ کا سامنا رہا عوامی احتساب کافورم پارلیمانی پبلک اکاونٹس کمیٹی کے چیئرمین مستعفی اور پی ٹی آئی کے ارکان نے کمیٹیوں کی سربراہی اور رکنیت سے استعفے دے دیئے، قومی اسمبلی کی ساکھ کارکردگی کو سوالیہ نشان بنادیا۔
عوامی اسمبلی بھی متوازی ایوان کی صورت میں لگی۔ایوان میں کئی بار تصادم ہوتے ہوتے رہ گیا ہاتھ گریبانوں تک پہنچے ،معذرت سے ماحول میں بہتری کی کوشش کی گئی ۔
قانون سازی کے لئے قومی اسمبلی میں سال2025میں55بلز منظور کئے گئے ان میں سرکاری42نجی13 بلزشامل ہیں۔55میں سے31ایکٹ آف پارلیمینٹ بنے، باقی سینیٹ میں زیرالتواءہیں سارا سال پارلیمان میں حکومت اپوزیشن میں محازآرائی کا سلسلہ جاری رہا،ایوان اپوزیشن لیڈرسے محروم ہیں۔
سال بھر ۔پارلیمانی رپورٹ کے مطابق 25قراردادیں منظورہوئیں ۔1755سوالات کے جوابات،53 سے زائد توجہ دلاو¿نوٹسز زیربحث آئیں۔6تحاریک استحقاق منظورکرتے ہوئے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپردکی گئیں.ضابطے259کے تحت55تحاریک ایجنڈے پر آئیں۔نشستیں 87کل ایام کار128ہیں سوادوسوگھنٹے سال بھر یہ اجلاس چلے۔
قومی اسمبلی کے 11سیشن ہوئے تین مشترکہ اجلاس ہوئے ۔کوئی تحریک التواءزیربحث نہ آسکی گیارہ تحاریک ضرور جمع ہوئی۔
اپوزیشن کی بڑی جماعت کی توجہ بھی عوامی ایشوز کی بجائے سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی پر مرکوز رہی نوازشریف بہت کم تعدادمیں ایوان میں آئے انھیں اہم قانون سازی کے موقع پر بادل نخواستہ قومی اسمبلی میں آنا پڑا۔ پارلیمانی سال کی تکمیل میں سوادوماہ بقایا ہیں۔


