اسلام آباد(محمداکرم عابد دامن مارگلہ سے ) پارلیمانی سیاسی جمہوری محاذپر سال2025 میں عوام پارلیمانی ثمرات سے محروم رہے ،ارکان اور بیوروکریسی کی تنخواہوں میں غیر معمولی اضافہ ضرور ہوا، اور ڈیڑھ لاکھ سے بڑھ کرپانچ لاکھ سے تجاوزکرگئیں۔عوام کو پارلیمانی اختیار کی ہوا بھی نہیں لگنے دی گئی،تمام پارلیمانی بزنس اپنی موت آپ مرگیا .
پارلیمان میں شخصیات کے لئے قانون سازی ضرورہوئی، ہنگامہ آرائی کشیدگی محاذآرائی سے سال شروع ہوا یہی صورتحال اختتام سال رہی اور سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے درپے رہیں،اگر اپوزیشن کی بڑی جماعت کے لئے معمولی رعایت ملنے کا ماحول پیدا ہوتا تو اتحادی جماعتیں آپے سے باہر ہوجاتی۔ اکثریتی پارلیمانی بزنس ضائع ہوگیا اور کسی میں اس نقصان کا احساس بھی دکھائی نہ دیا ۔بس ہر ایک پروٹوکول انجوائے کرتا رہا ۔یہ ہے وہ تنقید جو بعض ناقدین کی جانب سے کی جارہی ہے۔
پارلیمان حقیقی شراکت دار عوا م سے ویران رہا ۔دونوں ایوانوں سے عوام کے لیے فرحت بخش یا ہواکے تازہ جھونکے چلنے کا ماحول نہ دیکھا پارلیمانی بزنس دھڑا دھڑا جمع ہوتا رہا دوسری طرف سے اس پر بیدردی سے تلوار چلتی رہی ۔2025میں کوئی ایسی نظیر پیش نہیں کی جاسکتی کہ مفاد عامہ کے کسی کام کی اس سسٹم کے مستفیدگنندگان کو توفیق نہ ملی اپوزیشن چیختی چلاتی رہی کہ پارلیمان یرغمال ہے ربڑ اسٹیمپ ہے ،مجال ہے کسی کے کان پر جوں رینگی ہو۔اپوزیشن لیڈرز سے پارلیمان محروم ہے اور بھاری اخراجات سے چلنے والے پارلیمان میں اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ اپوزیشن لیڈرز کی تقرری میں بے بس ہیں یہ کوئی اور بات ہے مورخ کی نظریں توہیں ۔
عوامی احتساب کا حقیقی فورم پارلیمانی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی غیر فعال اور گیارہ سوارب روپے کے آڈٹ پیراز تمام پارلیمانی جماعتوں کی جانب حسرت سے دیکھ رہے ہیں خزانہ لٹ گیا کوئی تو نوٹس لے آڈٹ رپورٹ تو ایگزیکٹوسمری کے ساتھ پیش ہوچکی ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کی رپورٹس پیش کرنے کی رسمی کاروائی بھی ہوئی مگر بحث نہ ہوئی کہ ممکنہ قوانین کی اصلاح کرلی جائے ۔آئیے اعدادوشمار کی روشنی میں پارلیمانی ناکامیوں سے پردہ اٹھاتے ہیں پارلیمانی جمہوری نظام میں وقفہ سوالات حکومتی احتساب کاموثر ذریعہ ہوتا ہے ریکارڈ یہ ٹوٹا کہ 5808سوالات کے جوابات نہ آئے ۔283توجہ دلاونوٹسزجو کہ عوامی معاملات سے براہ راست تعلق رکھتے ہیں لیپس ہوگئے،قومی سمیت دیگر اہم معاملات پر گیارہ کی گیارہ تحریک التوامستردہوگئیں یعنی پیش کرنے کی اجازت ہی نہ ملی بس بھاری مراعات اورتنخواہوں میں اضافہ کی حکومت اپوزیشن جماعتوں بلاتفریق سب کو فکر لاحق ہوئی آئین کی حکمرانی پارلیمان کی بالادستی کے حقیقی مناظر کے لئے سیاسی حلقے ترستے رہے ۔
قاعدہ 259کی 240تحریکیں بھی مستردہوگئیں ۔عوام کو قراردادوں کے ذریعے بھی تسلی تشفی نہ دلوائی جاسکی اور 53قراردادیں لیپس ہوگئیں محرکین نے بھی شاید زیادہ پروا ،نہ کی ہو۔پی ٹی آئی کے احتجاج حکومت کی جانب سے اس کو جواب دینے میں پارلیمینٹ کے حوالے سے کسی خاص کارکردگی کی بجائے یہ سال رائیگاں چلاگیا۔26اور27ترامیم نے جنم لیا اور پارلیمان پربھاری بوجھ رکھ دیا گیا جسے اتارنے کے دعوی تو کئے جارہے ہیں وقت آنے پر سب کو ملک کے وسیع ترمفاد میں مفاہمت یاد آجاتی ہے۔ یعنی انتخابی نتائج کے معاملے پر اگر کسی کا سیاسی گھرلٹ جائے تو ذمہ داران کے تعین، سزاکو نظر اندازقریب دور سے نصحیتوں کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے اس امید میں کہ شایداس طرح کے بندوبست کے ذریعے انھیں بھی اقتدارمیں آنے کو موقع مل جائے ۔سیاسی لڑائیوں میں سال گزر گیا ۔
اپوزیشن کی بڑی جماعت کو سکون نہ لینے دیا گیا ۔مقدمات کی ٹرک کی بتی پیچھے لگایا جاتا رہا یہاں سے عدالتوں کی طرف جانے کی احتجاجی ریلیاں ضرور برآمد ہوئیں۔ عوام کے معاملات پر پارلیمان میں کوئی بحث ہوئی نہ مفاد عامہ کا کوئی خاص کام ہوا ،غیرملکی دوروں کی تعداد ضرور بڑھ گئی ہے ۔ سیاسی قیدیوں کے معاملات پر پارلیمانی نوٹس نہ لینے پر یہ نوبت عالمی پارلیمانی یونین اور اقوام متحدہ میں ان کی بازگشت سنائی دی۔
دونوں ایوانوں میں سیاسی قیادت کے دفاع کے مواقع پرارکان کے درمیان تصادم ہوتے ہوتے رہ گیا عوام کے لئے کسی کو شورشرابا ہنگامہ کرتے نہ دیکھا بعض مواقع پر پیپلزپارٹی نے حکومت کو آنکھیں ضرور دکھائیں ۔جھاگ کی طرح بیٹھ گئے ۔پی ٹی آئی دونوں ایوانوں میں عمران خان کی رہائی کی جنگ لڑتی رہی اور اس میں سیاسی زخم یہ لگے کہ قائمہ کمیٹیوں کے سربراہی اور رکنیت سے مستعفی ہوگئے اور اب اہم فورمز پر بھی یکطرفہ کاروائی کا سلسلہ جاری رہا ۔پارلیمانی جماعتوں کا عوام کے حوالے سے دامن 2025میں خالی رہا کوئی قابل ذکر اقدام نہ ہے جس سے براہ راست عوام کو فائدہ پہنچا ہو۔


