اسلام آباد(محمداکرم عابد)پارلیمنٹ کی پبلک اکاونٹس کمیٹی کے اجلاس کی کاروائی کے دوران آگاہ کیا گیا ہے کہ عوام سے پیٹرولیم مصنوعات کی مدمیں سالانہ 1400ارب روپے کے بھاری ٹیکسوں کی وصولی کی جارہی ہے۔

کمیٹی کا اجلاس سید نوید قمر کی زیر صدارت ہوا۔پیٹرولیم ڈویژن اوع اور اوگرا کی آڈٹ رپورٹ 2023-24 کاجائزہ لیا گیا۔پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت پر لیوی کی مد میں 14 ارب 63 کروڑ کی عدم وصولی سے متعلق آڈٹ پیرا کاجائزہ لیا گیا۔یہ رقم دو کمپنیوں سنرجی کو لمیٹڈ اور ہیسکول کے زمہ واجب الادا ہے،

آڈٹ حکام کے مطابق سنرجی کو لمیٹڈ کے زمہ 14 ارب52 کروڑ روپے کی ریکوری ہے، واجبات میں لیٹ پیمنٹ سرچارج بھی شامل ہیں،ہیسکول کی جانب سے 28 کروڑ 90 لاکھ روپے کی رقم غلط اکاونٹ میں جمع کرا دی گئی، پی اے سی نے بیوروکریسی کی کارکردگی کی سرزنش کرتے ہوئے کمپنی سے لیوی، لیٹ پیمنٹ سمیت وصول کرنے کی ہدایت کردی۔وزراتی حکام نے بتایا کہ کمپنی کی جانب سے ماہانہ اقساط میں واجبات کی ادائیگی کیلئے چیک جمع کرائے گئے ہیں،اس حوالے سے بینک گارنٹی بھی دی گئی ہے۔

بریفنگ میں پیٹرولیم مصنوعات پر عوام سے وصول کردہ لیوی کی کمپنیوں سے ریکوری میں غلطیوں کی نشاندہی ہوئی ہے۔عوام سے سالانہ 1.4 ٹریلین روپے پیٹرولیم لیوی وصول کی جاتی ہے، ڈی جی آئل وزارت پیٹرولیم نے مزید بتایا کہ کمپنیوں سے پیٹرولیم لیوی کی وصولی کا کوئی ٹھوس طریقہ کار موجود نہیں،

نوید قمر نے کہا کہاس کا مطلب ہے جو دے اس کا بھی بھلا اور جو نہ دے اس کا بھی بھلا، ارکان نے کہا کہ عوام کو نچوڑ کر پیٹرولیم لیوی وصول کی جاتی ہے، کمپنیوں کیلئے طریقہ کار ہی نہیں، اس طرح تو عوام کو بھی لیوی کی مد میں ریلیف ملنا چاہئے، پی اے سی نے کمپنیوں سے لیوی کی وصولی کا قانون اور طریقہ کار سخت کرنے کی ہدایت کر دی

پبلک اکاونٹس کمیٹی کے اجلاس کی کاروائی کے دوران پرفارمنس گارنٹی حاصل کیے بغیر تیل تلاش کے لائسنس کی بحالی کا انکشاف ہواہے۔

آڈیٹر جنرل پاکستان نے کہا کہ اس طرح لائسنس دینے سے 10 ارب 62 کروڑ کا نقصان ہوا۔، چیئرمین کمیٹی سید نوید قمرنے کہا کہ گارنٹی دی نہ ایکسپلوریشن کی گئی،ارکان نے کہا کہ حکومتی اداروں کے مقدمات میں اربوں روپے کے مقدمات ہیں، حکومت کے پاس صرف پیشیاں بھگتانے والے وکلاء ہوتے ہیں، پی اے سی ہدایت کرے کہ حکومت بھی ایسے مقدمات میں کارپوریٹ وکلا کی خدمات حاصل کرے،

کمیٹی نے ہدایت کی کہ قانون سے بات کریں اور پروفیشنل وکلاءکی خدمات حاصل کریں، ارکان نے یہ معاملہ بھی اٹھادیا کہجب پرفارمنس نہیں دی تو ان کے لائسنس معطل کیوں نہیں کیے گئے، تین سال سے یہ آڈٹ پیرا لے کر بیٹھے ہیں ان کو مزید ایک ماہ دے رہے ہیں،

پی اے سی نے ہدایت کہ کمپنیوں سے کہیں کہ قانون کے مطابق چلیں نہیں تو لائسنس ختم ہوگا، کمیٹی کی وزارت پٹرولیم کو دیوان کمپنی سے دو ہفتوں میں معاملہ طے کرنے کی ہدایت کردی ۔
نویدقمر نے کہا کہ دیوان کمپنی کی حد تک پیرا نہیں نمٹا رہے باقی حصہ نمٹا رہے ہیں، پی اے سی نے آئندہ کسی بھی شعبے کو سبسڈی کی فراہمی تھرڈ پارٹی آڈٹ سے مشروط کردی۔ ای سی سی کے فیصلے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 28 ارب کی سبسڈی دینے کا انکشاف ہوا۔ ایکسپورٹ انڈسٹری کو دی گئی سبسڈی کا سہہ ماہی جائزہ نہیں لیا گیا، آڈٹ حکام نے مزید بتایا کہ سبسڈی کے مستحق صارفین کی فہرست بھی دستیاب نہیں تھی، وزیر توانائی کی سربراہی میں قائم کمیٹی کی رپورٹ بھی آڈٹ کو فراہم نہیں کی گئی، آر ایل این جی پر غیر قانونی طور پر سبسڈی کی پیمنٹ کی گئی، ای سی سی فیصلے کے مطابق گیس اور بجلی پر سبسڈی کا ہر سہہ ماہی جائزہ لیا جائے گا،کمیٹی نے آئندہ کسی بھی سیکٹر کو سبسڈی تھرڈ پارٹی آڈٹ سے مشروط کر دی