اسلام آباد(محمداکرم عابد)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی آبی سائل نے 1991کے پانی کے معاہدے سے اب تک سمندر برد ہونے والے پانی کا دوہفتوں میں ڈیٹا مانگ لیا ۔

کمیٹی نے ڈاون سٹریم کوٹری کے علاقوں کے دورے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔کے فور کراچی کے حوالے سے گھروں تک پائپ لائنیں بچھانے کا کام شروع نہ ہونے پر کراچی واٹر سیوریج کارپوریشن کے سی ای اوکو آئندہ اجلاس میں طلب کرلیا گیا ہے ارکان نے کہا ہے کہ کیا آئندہ صدی تک کراچی والوں کو پینے کا پانی مل جائے گا ۔منصوبہ نومبر2121میں شروع ہواتھا لاگت126ارب روپے سے 171ارب روپے سے تجاوزکرگئی ۔

کمیٹی نے ملک بھر میں محکمہ آبپاشی کے زمینوں پر قبضوں کا سرکاری ریکارڈ پیش نہ کرنے پر اظہار تشویش کرتے ہوئے صوبائی سیکرٹریز کو دوہفتوں کی مزید مہلت دے دی ہے ۔

اجلاس میں صوبوں کی جانب سے آبپاشی کے نچلی سطح پر پانی کی غیرمنصفانہ تقسیم کا معاملہ بھی اٹھ گیا کہ کراچی وفا ق کو کماکر دیتا ہے مگر ہم وفاق سے یہ نہیں پوچھ سکتے کہ نچلی سطح پر آبپاشی کے پانی کی عدم فراہمی کاکون نوٹس لے گا۔

چیئرمین کمیٹی نے ہدایت کہ سانحہ گل پلازہ کی طرح وہ اس معاملے پر قومی وصوبائی اسمبلیوں میں بات کریں۔ ۔کمیٹی کا اجلاس احمد عتیق انور کی صدارت میں پارلیمینٹ ہاو¿س میں منعقد ہوا۔ کمیٹی میں صوبائی سیکرٹریزآبپاشی متعلقہ سرکاری زمینوں ان پر قابضین کی مکمل تفصیلات پیش کرنے میں تاحال ناکام ہیں۔ بلوچستا ن کا سرے سے کوئی ڈیٹا ہی نہیں آیا ۔

کمیٹی نے آبی گزرگاہوں ،حفاطتی بندوں ،نہروں کے گردونواح محکمہ آبپاشی کے زمینوں کا مکمل ڈیٹا طلب کیا ہے۔ وزارت کو اسپارکوسے بھی سمندر جانے والے پانیوں اور زمنیوں کی گوگل تصاویر لے کر ڈیٹا تیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔
کراچی کے شہریوں کو کے فور منصوبے روان سال چھ کروڑ گیلن یومیہ پانی فراہم کر سگے گا یا نہیں پراجیکٹ انتظامیہ اور وزارت آبی وسائل کی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی بی وسائل میں بڑا تضاد بھی سامنے آگیا ہے۔

انتظامیہ کے مطابق منصوبہ رواں سال دسمبر میں مکمل ھوگا ۔وزارت آبی وسائل کے مطابق ابھی تو نظر ثانی شدہ لاگت پی سی ون سے پینتالیس ارب روپے زیادہ بنے گا۔

ایم کیو ایم کے سید وسیم حسین نے منصوبے میں مزید تاخیر کا خدشہ ظاہر کردیا ۔شمائلہ رانا نے کہا کہ کیا آئندہ صدی میں کراچی کے شہریوں کو پینے کا پانی مل جائے گا ۔۔

اجلاس میں پراجیکٹ ڈائریکٹر کے فور عامر مغل نے بریفنگ دی بتایا کے فور منصوبے پر 66فیصد کام مکمل ہوگیا۔ دسمبر 2026میں مکمل کردینگے ۔منصوبے کی لاگت 126ارب ھے وفاق 89ارب دے چکا ۔سندھ حکومت جون تک ساڑھے آٹھ ارب روپے دینے کا وعدہ کرچکی پائپ لائن بچھان کا کام نوے فیصد مکمل ہوگیا ۔

وزارت آبی وسائل حکام نے بتایا اب یہ منصوبے صرف 126ارب کا نہیں رہا لاگت 171ارب تک پہنچ چکی ۔نظر ثانی شدہ پی سی ون کا جائزہ لے رہے ہیں ۔اگر منصوبہ دسمبر تک مکمل کرنا ھے تو 64ارب روپے دسمبر تک دینے ہونگے ۔

ایم کیو ایم سی سید وسیم نے کہا کہ پراجیکٹ ٹیم صرف منصوبے کے مڈل حصے کی بات کر رہی ،وزارت کے پورے سیکٹر کیلئے رواں مالی سال محض 128ارب روپے مختص کیے گے ہیں۔

اجلاس میں ارسا کی جانب سے پانی کے تقسیم کے معاہدے پر بریفنگ دی گئی بتایا کہ معاہدے کے تحت پنجاب کو 55.94ملین ایکٹر فٹ سندھ 48.79دیا گیا کے پی 5.7ملین بلوچستان کو 3.87ملین ایکٹر کا پانی کا کوٹہ دیا گیا ،114.33ملین ایکٹر فٹ وہ پانی شامل ھے جو کینالز ہیڈ پر موجودہوتا ھے۔

ارکان نے سیلابوں برسات بارشوں کے پانیوں کے ضیاع کے معاملات اٹھادیئے۔چیئرمین ارسا نے ڈاو¿ن سٹریم کوٹری پانی کے اخراج کی معاہدے کے مطابق تفصیلات سے آگاہ کیا ۔کمیٹی 1991سے اب تک سمندر برد ہونے والے پانیوں کا تفصیلی ڈیٹا مانگ لیا ہے ۔

کمیٹی نے کوٹری بیراج کے دورے کا بھی فیصلہ کیا ہے ۔ وسیم حسین نے مطالبہ کیا کہ صوبوں سے اضلاع اور ڈویژنوں کوآبپاشی پانی کی فراہمی کا ڈیٹا طلب کیا جائے۔

چیئرمین ارسا نے کہا کہ اس بارے میں صوبائی حکومتیں زمہ دار ہیں ان کے پاس یہ ڈیٹا ہوتا ہے ۔

ایم کیوایم رکن نے کہا کہ کراچی حیدر آباد پیاسے ہیں، کسی کوخیال نہیں ہے البتہ ٹینکرز کے لئے پانی ضرور دستیاب ہوجاتا ہے ۔کراچی ،وفاق کو کماکر دیتا ہے مگر ہم وفاق سے یہ نہیں پوچھ سکتے کہ نچلی سطح پر آبپاشی کا پانی کون فراہم کرے گا اور اگر ایسا نہیں ہورہا ہے تو کون نوٹس لے گا۔

چیئرمین کمیٹی نے ہدایت کہ سانحہ گل پلازہ کی طرح وہ اس معاملے پر قومی وصوبائی اسمبلیوں میں بات کریں۔