اسلام آباد(محمد اکرم عابد)وفاقی دارالحکومت کے مختلف سیکٹرز میں لاپتہ 43 پلاٹس کے باعث ایک ارب روپے کے نقصان کی رپورٹ منظر عام پر آگئی ،گمنام اکاونٹس کے بعد گمنام پلاٹس کا اسیکنڈل۔24 ہاوسنگ سوسائٹیز سے اڑھائی ارب روپے جرمانہ وصول نہ کرنے کا بھی انکشاف۔

پارلیمانی پبلک اکاونٹس کمیٹی کا اجلاس قائم مقام چیئرپرسن شاہدہ اختر علی کی صدارت میں پارلیمینٹ ہاوس میں منعقدہوا،وزارت داخلہ سے متعلق سال 2023-24 کے حسابات کی جانچ پڑتال کی گئی۔سی ڈی اے کی جانب سے مقررہ مدت میں مکمل نہ ہونے والی ہاوسنگ سوسائٹیز سے جرمانہ وصول نہ کرنے کاانکشاف ہوا،

سی ڈی اے کی جانب سے پچاس ہاوسنگ سوسائٹیز کے ایل او پی منظور کئے گئے، 24 ہاوسنگ سوسائٹیز کو این او سی جاری کیا گیا، ان سوسائٹیوں نے تین سے چھ سالوں میں مکمل ہونا تھا لیکن مقررہ مدت میں مکمل نہ ہوسکیں، آڈٹ حکام کے مطابق ان ہاوسنگ سوسائٹیز پر 2.3 ارب کا جرمانہ عائد ہونا تھا،

سی ڈی اے نے بتایا ہے کہ 45 ملین کی ریکوری ہوئی ہے، عوام کی سرمایہ کاری داو¿ پر لگی ہے۔چیئرمین سی ڈے اے نے بتایا کہ410 ملین پر عدالتی حکم امتناعی ہیں،ہمیں چار سے چھ ماہ دیں تاکہ ریکوری کرا سکیں، کمیٹی نے ریکوری کے لئے سی ڈی اے کو چار ماہ کا وقت دے دیا،

اجلاس کے دوران مختلف سیکٹرز میں 43 پلاٹس کی مشکوک الاٹمنٹس سے سی ڈی اے کو ایک ارب کا نقصان ہونے کی رپورٹ منظر عام پر آگئی ،43 پلاٹس الاٹ کئے گئے، آڈٹ حکام کے مطابق فائلز مانگیں تو بتایا گیا کہ دو ایف آئی اے کے پاس ہیں،41 فائلز مسنگ (لاپتہ ) ہیں،سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ کیس ایف آئی اے کو ریفر کیا گیا،ارکان نے کہا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے 43 پلاٹس کا ریکارڈ غائب ہوجائے ۔

ایف آئی اے حکام کے مطابق 37 ملزمان کو گرفتار کر لیا،چالان عدالت میں جمع کرا دیا گیا ہے، اس میں 18 اور 19 گریڈ کے افسران بھی شامل ہیں، یہ بوگس فائلیں تھیں، پلاٹس کی الاٹمنٹ بھی بوگس تھی، پلاٹ موجود ہی نہیں تھے، سی ڈی اے کے افسر بھی اس میں ملوث تھے ۔

ارکان نے اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت سی ڈے اے کے چیئرمین کون تھے؟ کمیٹی نے معاملہ پر کاروائی سے متعلق پیشرفت کی ا یف آئی اے کی رپورٹ طلب کرلی،جو چیئرمین اس دور میں تھا اس کا نام بھی تحقیقات میں شامل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔13 سال پہ اسکینڈل چل رہا ہے۔

ارکان پارلیمنٹ کے لئے دودہائیوں سے فیملی سوٹس کی عدم تعمیرسے متعلق آڈٹ اعتراض کے جائزہ کے دوران کارکردگی پر عدم اطمینان کیا گیا ہے۔ارکان نے کہا کہ 100 فیصد سی ڈی اے کا قصور ہے،

سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے استفسار کیا کہ اگر فنڈز نہیں تھے تو کنٹریکٹ سائن کیوں کیا؟

اس دوران سی ڈی اے کی جانب سے ایکسٹینشن چارجز کی مد میں 23 کروڑ کی ریکوری نہ ہونے کی رپورٹ بھی پیش کردی گئی۔اس میں دو کیس ہیں۔ ایک سینٹورس کا اور دوسرا گرینڈ حیات کا ہے،گرینڈ حیات کا کیس عدالت میں ہے، حکام کی بریفنگ کے مطابق سینٹورس سے 148 ملین روپے وصول ہوگئے ہیں،ان کا تیسرا ٹاور رہتا ہے، صفامال کا دلچسپ کیس ہے، سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ وہ آج تک حل نہیں ہو رہا، پی اے سی نے سی ڈی اے کے ایف آئی اے میں زیر التوا کیسز کی تفصیلات طلب کر لیں۔

پی اے سی نے چیئرمین سی ڈی اے اور ڈی جی ایف آئی اے کو آئندہ اجلاس میں طلب کر لیا۔