اسلام آباد،(پارلیمانی ڈائری محمداکرم عابد)
پاکستانی پارلیمینٹ میں دہشت گردی کے معاملات پر ایک بار پھر رسمی تقاریر کا سلسلہ شروع ہوگیا ،پھر پارلیمان کی یاد ستائی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ پر اعترضات سے متعلق عمران خان اور خواجہ آصف کے موقف میں یکسانیت نے حیران کردیا
،وفاق نے فاٹاکا انتظام مانگ لیا ،اگرچہ اپوزیشن لیڈرز بشمول وزیردفاع نے کسی حدتک کڑوے سچ بول دیئے ہیں تاہم ماضی قریب کی طرح اب پھرکوئی حل تاحال پیش نہ کیا گیا ہے ،طالبان کی ارکان پارلیمینٹ تک دھمکیوں کے پہنچنے کا انکشاف ضرور ہوا۔ پہلے بھی ایسے واویلا سنا گیا ۔پی ٹی آئی کی حکومت طرح موجودہ حکومت کی صفوں سے یہ بازگشت سنائی دی کہ دہشت گردی کی یہ جنگ ہماری نہیں تھی امریکی شراکت داری کاحصہ بنے رہے۔
خواجہ آصف نے سخت الفاظ استعمال کئے ہیں ،ارے سادہ لوگو ں پھر سچائی کمیشن بناکر اس مسئلہ کو ہمشہ کے لئے طے کیوں نہیں کردیتے ہو۔ ایک طرف پارلیمان سے مددکی چیخ وپکار ہے دوسری طرف سنسرشپ آوازیں بند کرنے بلیک آو¿ٹ کا سلسلہ جاری ہے یعنی پارلیمان صرف قراردادوں کی منظوری تک رہ گیا ہے۔
کوئی لائحہ عمل نہ دینے پر پارلیمانی راہدریوں میں سخت تبصرے سننے کو ملے کہ ہر بارکسی سانحہ کے بعدایسی تقاریر ہوتی ہیں، پالیسی سازی میں پارلیمان کا کوئی کردار نہیں ،پارلیمان کی قومی امن میں شراکت داری ،پشت پناہی اسی صورت میں موثر ہوسکتی ہے کہ یہاں سے قومی حکمت عملی کا اعلان ہو،حکومت عملدرآمد کا عہد کرے وگرنہ پارلیمینٹ ڈبیٹنگ کلب کا تاثر زائل نہ ہوسکے گا ۔
اسلام آباد کے متعلقہ حلقہ سے ایم این اے راجہ خرم شہزاد کا انتباہ جگانے کے لئے کافی ہے انھوں نے پاک افغان باڑ کی حثیت پر بھی سوال اٹھادیا ہے۔ وزیردفاع کی کسی حد تک صاف گوئی سے تقریر کی مگر وہ تو حکومت اپوزیشن کے مشترکہ اجلاس کی داغ بیل ڈالنے کی پوزیشن پر بیٹھے ہیں کل جماعتی کانفرنس مشترکہ اجلاس میں اداروں کی نتیجہ خیزبریفنگ کا اہتمام کیوں نہیں کیا جاسکتا متعلقہ سیاسی جماعتوں بالخصوص پی ٹی آئی مذہبی جماعتوں کا دوٹوک اندازمیں جوابات کا اہتمام کیوں نہیں کیا جاتا۔
وزیردفاع کے تقریر سے بھی نے سوالات ابھرے ہیں کیا وہ اپنے دعوو¿ں سے متعلق قیادت سے بات نہیں کرسکتے۔ ایسے ہی بیانیہ تو عمران خان نے بھی دیا تھا وہ تو جیل میں ہے بہرحال بے لاگ تقاریر کی آڑمیں مبینہ انتخابی دھاندلی کا معاملہ اوجھل نہ ہوجائے ۔
اپوزیشن لیڈرزمحمودخان اچکزئی راجہ ناصر عباس کے انسدادہشت گردی کے معاملے پر ہاتھ جوڑتے ہوئے سچائی کمیشن ،پارلیمان کا خفیہ مشترکہ اجلاس طلب کرنے کے مطالبہ پرتوجہ دینے کی ضرورت ہے ،سانحات پر اظہار افسوس یا قرارداوں تک محدود نہ رہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر پالیساں واضح ہیں غلطیوں کا احساس ہے تو سارا سچ پارلیمان کے سامنے رکھ دیں مسئلہ کا کوئی نہ کوئی حل تو نکل آئے گا وگرنہ الزام تراشیوں میں قومی حکمت عملی کی پیشرفت دھری کی دھری رہ جائے گی صورتحال کی سنگینی سے متعلق تجربہ کار،ارکان پارلیمان نے دہائی دے دی ۔تاریخ کے اہم دوراہے پرکھڑے ہیں۔ نئی بات یہ بھی سامنے آئی ہے کہ وفاق نے قبائلی اضلاع کا انتظام خود سنبھالنے کی پیش کش اس کے لئے28ویں ترمیم کی منظوری کی پیش کش کردی ۔
تقاریر تو روایتی ہورہی ہیں تاہم کچھ نیانیا یہ تھا کہ دہشت گردی کے خلاف امریکی مددسے لڑی جانے والی جنگ پر عمران خان اور خواجہ آصف کے موقف میںیکسانیت نے سلگتے سوالات اٹھا دیئے ہیں ،غلام گردشوں میں وزیردفاع کے بیان کوکڑوے سچ سے تعبیر کیا جارہا تھا ،
ناقدین کا کہنا ہے کہ حقائق بتانے کی ضرورت ہے کہ افغانستان کے معاملہ پر ریاست پاکستان نائن الیون سے پہلے اور نائن الیوں کے بعد کتنے کھٹن مراحل سے گزری کیا اثرات مرتب ہوئے ازالہ کیسے ممکن ہو۔سنسرشپ کانشانہ بھی تقاریر بن رہی ہیں۔


