اسلام آباد (ای پی آئی ) سپریم کورٹ نے قراردیا ہے کہ جائیداد کا کوئی بھی شریک کھاتہ دار صرف قیمتی حصے کی تقسیم کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔

سپریم کورٹ نے وراثتی جائیداد کی تقسیم کے کیس میں پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے کیس واپس بھجواتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ ٹرائل کورٹ مقدمے کا نئے سرے سے قانون کے مطابق فیصلہ کرے،

جسٹس شاہد وحید نے تحریری فیصلہ جاری کردیا جس میں کہا گیا ہے کہ جزوی تقسیم کا دعویٰ برقرار رکھنا دیگر شریک مالکان کے ساتھ ناانصافی ہے ، جائیداد کی تقسیم کا مقصد تمام وارثین کو ان کا جائز حصہ بلا امتیاز فراہم کرنا ہے اور تقسیم کے معاملے میں ہر انچ زمین پر تمام وارثین کا حق ہوتا ہے ،وراثتی جائیداد کی جزوی تقسیم کا دعویٰ قانونی طور پر برقرار نہیں رہ سکتا ،تمام جائیدادوں کو ایک مشترکہ پول میں رکھ کرمالیت اور محل وقوع کے مطابق تقسیم کرنا لازمی ہے۔

سپریم کورٹ نے لکھا ہے کہ ٹرائل کورٹ نے ابتدائی ڈگری جاری کرتے وقت فریقین کے حصوں کا تعین نہیں کیا،تین بھائیوں کے درمیان والد کے چھوڑے ہوئے چار مکانات کی تقسیم کا تنازع تھاایک بھائی نے پورے ترکے کے بجائے ایک مکان کی تقسیم کا دعویٰ دائر کیا جس پر دوسرے بھائی کا قبضہ تھا۔

ٹرائل کورٹ نے صرف اسی ایک متنازع مکان کی تقسیم کا حکم دے دیا

پشاور ہائیکورٹ نے بھی ٹرائل کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا