اسلام آباد(ای پی آئی ) سپریم کورٹ، بانی پی ٹی آئی کو ہسپتال منتقل کرنے کی درخواست پر اعتراضات عائد کرتے ہوئے واپس کر دی.

مقدمات کی سماعت کے دوران بانی پی ٹی آئی کے وکیل سردار لطیف کھوسہ، نعیم حیدر پنجوتھہ چیف جسٹس یحیی خان آفریدی کی عدالت میں پیش ہوگئے اور چیف جسٹس سے مکالمہ کے دوران سردار لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہماری درخواست مقرر کر دیں،جس پر چیف جسٹس نے کہاکہ آپ کی درخواست اعتراضات کےساتھ کل واپس کی جا چکی ہے، آپ کی درخواستیں تاحکم ثانی زیرالتواء رہیں گی اور آپ کی ایسی کوئی درخواست زیر التواء نہیں جس پر کارروائی کی جا سکے.

وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہم نے کل جلد سماعت کی درخواست دی تھی، عدالت نے بانی پی ٹی آئی کے علاج کا حکم دیا تھا. جس پر چیف جسٹس نے کہاکہ عدالت نے حکم نہیں جاری کیا تھا بلکہ حکومت نے یقین دہانی کرائی تھی،آپ عدالت کا فیصلہ دوبارہ پڑھ لیں، صحت کا ایشو زیر التواء نہیں.

لطیف کھوسہ نے عدالت سے کہاکہ سیاسی یا قانونی نہیں بلکہ انسانی بنیادوں پر ہسپتال منتقلی کی استدعا ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہاکہ کہ انسانی بنیادوں پر ہی میڈیکل چیک اپ کروایا گیا تھا،
وکیل بانی پی ٹی آئی لطیف کھوسہ نے عدالت سے کہاکہ میری بات سمجھنے کی کوشش کریں، جسٹس شاہد بلال حسن نے لطیف کھوسہ کو جواب دیا کہ آپ کو 1992 سے جانتا ہوں، آپ کیا بول رہے ہیں اور کس چینل سے بول رہے ہیں سب سمجھ رہا ہوں.

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہاکہ کھوسہ صاحب آپ سینئر وکیل ہیں سپریم کورٹ کا طریقہ کار جانتے ہونگے، رجسٹرار سے ملاقات کریں اگر وہ اعتراضات کی کاپی نہ دیں تو عدالت آ سکتے ہیں.

لطیف کھوسہ نے کہاکہ کل آرڈر ہوا ہے تو ہمیں ابھی تک کسی نے آگاہ کیوں نہیں کیا.