اسلام آباد(ای پی آئی) وفاقی آئینی عدالت کے جج جسٹس حسن رضوی نے کہا ہے کہ رہائشی پلاٹس کو کمرشل کرنے سے شہر کی تباہی ہو جاتی ہے اورکراچی میں رہائشی پلاٹس کو کمرشل میں تبدیل کرنے کا نتیجہ بھگت رہے ہیں.
وفاقی آئینی عدالت کے جج جسٹس حسن اظہر رضوی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے رہائشی پلاٹ کو کمرشل میں تبدیل کرنے کے کیس کی سماعت کی . عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قراردیتے ہوئے معاملہ دوبارہ فیصلہ کیلئے لاہور ہائیکورٹ کو بھجوا دیااور ہدایت کی کہ لاہور ہائیکورٹ معاملہ پر 90 دن میں دوبارہ فیصلہ کرے.
دوران سماعت وفاقی عدالت کے فاضل جج جسٹس حسن رضوی نےوکیل کے منشی کے عدالت سے مخاطب ہونے پر برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ جب وکیل صاحب کھڑے ہے تو تمھاری بات کرنے کی ہمت کیسے ہوئی۔جسٹس رضوی
کیا تم درخواست گزار ہو؟؟؟
منشی نے جواب دیا کہ میں وکیل صاحب کا معاون ہوں تو جسٹس رضوی نے ڈانٹتے ہوئے استفسارکیاکہ عدالتی ڈیکورم کا تمھیں خیال نہیں۔کیا تم سپریم کورٹ کے وکیل ہو؟؟معاون ہو یا وکیل صاحب کے منشی ہو۔منشی نے جواب دیا کہ وہ وکیل کا منشی ہے عدالت سےغلطی پر معذرت چاہتا ہوں
جسٹس رضوی نے ریمارکس میں کہا کہ رہائشی پلاٹس کو کمرشل کرنے سے شہر کی تباہی ہو جاتی ہے۔پرانے بڑے شہروں میں رہائشی پلاٹس کمرشل میں تبدیل نہیں ہوتے۔ایک گھر میں پانچ سے چھ لوگ رہتے ہیں جب پلاٹ کمرشل میں تبدیل ہونے پر وہاں پورا بازار بن جاتا ہے۔جسٹس رضوی کا کہنا تھا کہ کراچی میں رہائشی پلاٹس کو کمرشل میں تبدیل کرنے کا نتیجہ بھگت رہے ہیں۔
بعد ازاں عدالت نے نے رہائشی پلاٹ کو کمرشل میں تبدیل کرنے کے کیس کی سماعت کی . عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قراردیتے ہوئے معاملہ دوبارہ فیصلہ کیلئے لاہور ہائیکورٹ کو بھجوا دیااور ہدایت کی کہ لاہور ہائیکورٹ معاملہ پر 90 دن میں دوبارہ فیصلہ کرے.


