اسلام آباد (ای پی آئی) وفاقی دارالحکومت کی عدالت میں زیر سماعت ایک مقدمے نے اسلام آباد پولیس کے کردار پر سنگین سوالات کھڑے کر دیئے ہیں جہاں غیرقانونی حراست، مبینہ تشدد اور جھوٹے مقدمات کے الزامات کے بعد معزز عدالت نے اعلیٰ سطحی انکوائری کا حکم دے دیا۔
جوڈیشل مجسٹریٹ محترمہ زنیرا ظفر کے روبرو دائر درخواست میں انکشاف کیا گیا کہ ایک خاتون اور اس کے بھائی کو رات کے وقت راولپنڈی کے علاقے مصریال روڈ سے حراست میں لے کر تین روز تک غیرقانونی طور پر رکھا گیا اور بعدازاں انہیں مختلف سنگین مقدمات میں نامزد کر دیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق درخواست گزاران کی جانب سے معروف قانون دان ایڈووکیٹ محمد فہیم اختر گل نے دفعہ 156(3) ضابطہ فوجداری کے تحت مؤقف اختیار کیا کہ پولیس نے غیرقانونی حراست کو چھپانے کے لیے دو الگ الگ جھوٹی ایف آئی آرز درج کیں، جن میں بھائی عبدالواحد کو تھانہ بارہ کہو میں ڈکیتی کے مقدمے میں جبکہ بہن کو منشیات کے کیس میں ملوث ظاہر کیا گیا، حیران کن طور پر دونوں مقدمات میں ایک ہی پولیس افسر مدعی بنا جسے درخواست گزار نے بدنیتی کا واضح ثبوت قرار دیا۔
عدالت کو بتایا گیا کہ شہریوں کو بغیر وارنٹ گھر سے اٹھایا گیا، ان کے موبائل فونز، اے ٹی ایم کارڈز اور شناختی دستاویزات ضبط کیے گئے اور مبینہ طور پر ذہنی و جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا، بعدازاں گرفتاری ظاہر کر کے مقدمات قائم کر دیے گئے۔ ریکارڈ کے مطابق عبدالواحد کو ایک مقدمے میں عدالت پہلے ہی ڈسچارج کر چکی ہے جسے وکیل صفائی نے مقدمے کے من گھڑت ہونے کا ثبوت قرار دیا۔
سماعت کے دوران وکیل نے مؤقف اپنایا کہ اگر پہلے سے زیرحراست افراد کو بعد میں گرفتار ظاہر کیا جائے تو یہ نہ صرف اختیارات کا ناجائز استعمال ہے بلکہ عدالتی نظام کو گمراہ کرنے کے مترادف بھی ہے۔ معزز عدالت نے ابتدائی ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ الزامات بادی النظر میں قابل دست اندازی جرائم بنتے ہیں اور شفاف تحقیقات ناگزیر ہیں.
چنانچہ اسلام آباد پولیس کے ایس پی رورل کو حکم دیا گیا کہ وہ پندرہ روز میں تفصیلی انکوائری مکمل کر کے رپورٹ عدالت میں پیش کریں، عدالت نے درخواست گزار کی استدعا منظور کرتے ہوئے سیف سٹی کیمروں کی فوٹیج، موبائل فونز کا ڈیٹا، کال ڈیٹیل ریکارڈ اور ضبط شدہ سامان کا مکمل ریکارڈ تفتیش کا حصہ بنانے کا بھی حکم دیا۔ جبکہ کیس کی آئندہ سماعت پر انکوائری رپورٹ پیش ہونے کے بعد مزید قانونی کارروائی متوقع ہے۔


