اسلامآباد (ای پی آئی ) سپریم کورٹ میں دس ارب روپے ہرجانہ کیس میں حق دفاع ختم کرنے کا معاملہ میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی نظرثانی درخواستوں پر سماعت ہوئی ہے .
جسٹس عائشہ ملک کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے نظرثانی درخواستوں پر سماعت کی.
یاد رہے کہ بانی پی ٹی آئی نے پانامہ کیس سے پیچھے ہٹنے پر دس ارب روپے کی پیشکش کا دعویٰ کیا تھا.جس پر شہباز شریف نے 2017 میں بانی پی ٹی آئی کیخلاف ہتک عزت کا دعویٰ دائر کیا تھا.جو ابھی تک زیرسماعت ہے…
آج سماعت کاآغاز تو وزیراعظم شہباز شریف کے وکیل راشد حفیظ کے معاون عدالت میں پیش ہوئے اور موقف اپنایا کہ راشد حفیظ لندن میں ہیں، ان کی استدعا ہے کہ کیس آئندہ ہفتے تک ملتوی کیا جائے.
جسٹس عائشہ ملک نے کہاکہ آج درخواست گزار کو سن لیتے ہیں آئندہ سماعت پر دوسرے فریق کو سن لیں گے.
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ عدالت نے کئی مرتبہ بانی پی ٹی آئی کو جواب کیلئے وقت دیا تھا، چار سال بعد تو دعوے کا جواب جمع کروایا گیا تھا، کیا اتنی تاخیر کے بعد بھی عدالت سخت حکم جاری نہ کرتی؟ جسٹس اشتیاق ابراہیم نے عمران خان کے وکیل سے کہا کہ نظرثانی کے دائرہ اختیار کو بھی ذہن میں رکھ کر دلائل دیں.
بیرسٹر علی ظفر نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہاکہ اصل مسئلہ بانی پی ٹی آئی کے زخمی اور ہسپتال میں ہونا تھا، سپریم کورٹ کے فیصلے میں زخمی ہونے کے نقطے پر کوئی رائے نہیں دی گئی ماضی میں کیا ہوا وہ معنی نہیں رکھتا، اصل بات یہ تھی کہ بیان حلفی جمع نہ کرانے کی وجہ کیا ہے، سول کورٹ نے آٹھ نومبر تک بانی پی ٹی آئی کو بیان حلفی جمع کرانے کا حکم دیا، تین نومبر 2022کو بانی پی ٹی آئی پر قاتلانہ حملہ ہوا، عدالت نے 8 اور 17 نومبر کی سماعتوں میں بانی پی ٹی آئی کا زخمی ہونا تسلیم کیا، 22 نومبر 2022 کو عدالت نے حق دفاع ختم کرنے کا حکم جاری کر دیا،
بیرسٹر علی ظفر نے دلائل میں کہا کہ یہ کوئی سزائے موت کا مقدمہ نہیں جو حق دفاع بحال ہونے سے مسئلہ ہوگا، سکیورٹی خدشات پر وکلاء کی بانی پی ٹی آئی سے ہسپتال میں ملاقاتیں روکی گئیں، ممکن نہیں تھا کہ بانی پی ٹی آئی کو ہسپتال سے بیان حلفی کیلئے باہر لایا جاتا، حق دفاع کی بحالی شفاف ٹرائل کا بنیادی تقاضا ہے.
بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت 12مارچ تک ملتوی کر دی
یاد رہے کہ گزشتہ سماعت پر عدالت نے سول کورٹ کو کارروائی سے روکنے کا حکم دیا تھا .
بانی پی ٹی آئی نے پانامہ کیس سے پیچھے ہٹنے پر دس ارب روپے کی پیشکش کا دعویٰ کیا تھا.شہباز شریف نے 2017 میں بانی پی ٹی آئی کیخلاف ہتک عزت کا دعویٰ دائر کیا تھا.


