اسلام آباد(ای پی‌آئی) سپریم کورٹ میں لڑائی جھگڑے کے ملزم کی درخواست ضمانت قبل از گرفتاری پر سماعت کے دوران شکایت کنندہ کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزم نے جھگڑے کے دوران مدعی کو راڈ مار کر گھٹنے کی ہڈی توڑ دی ہے،
جسٹس ہاشم کاکڑ نے تین رکنی بینچ کی سربراہی کرتے ہوئے ملزم کی کمرہ عدالت میں سخت سرزنش کردی. فاضل جج نے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ ملزم کے تیور اچھے نہیں لگ رہے، تم کیا کوئی بدمعاش ہو،عدالت میں بھی طریقے سے نہیں کھڑے.
مدعی کے وکیل نے بتایا کہ ملزم پر لڑائی جھگڑے کے 18 مزید مقدمات بھی درج ہیں، جس پر جسٹس ہاشم کاکڑ نے سوال اٹھایا کہ تم ہو کون جو لوگوں کے پائوں توڑتے رہتے ہو؟ فاضل جج نے کہاکہ فریقین کی صلح نہ ہوئی تو بات قتل و غارت تک پہنچ جائے گی، خوشاب کے لوگ لڑائی جھگڑا ایسے نہیں چھوڑتے.

جسٹس اشتیاق ابراہیم نےمدعی سے مکالمہ میں استفسار کیا کہ کیا آپ صلح کرنا چاہتے ہیں؟ تو مدعی عمردراز نے جواب دیا کہ ہمارے ساتھ ظلم ہوا ہے معاف نہیں کروں گا ملزم کو سزا دی جائے، گھٹنہ توڑنے کے باوجود ملزم دھمکیاں دیتا اور بدمعاشی کرتا ہے،.

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہاکہ لوگ تو قتل بھی اللہ کی رضا کیلئے معاف کر دیتے ہیں، جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیئے کہ ملزم کی ساری بدمعاشیاں نکال دیں گے، صلح ایسے نہیں ہوگی ملزم کو جرمانہ کرینگے، جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اگر آئندہ سماعت تک ملزم نے راضی نامہ نہ کیا تو نتائج سنگین ہونگے.
عدالت نے سماعت دو اپریل تک ملتوی کر دی