اسلام آباد(ای پی آئی) سپریم کورٹ نے بیوی اورحقیقی بیٹی کے قاتل مجرم باپ کو بڑا ریلیف دیدیا.

عدالت نے بیوی بیٹی کے قتل کے مجرم محمد امین سزائے موت کا فیصلہ کالعدم قرار دیکر ماتحت عدالت کی طرف سے دی گئی پھانسی کی سزا کو عمر قید میں تبدیل کردیا.

ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ نے جرم ثابت ہونے پر ملزم کو دو مرتبہ سزائے موت سنائی تھی تاہم سپریم کورٹ نے قراردیا ہے کہ مجرم کی پھانسی کی سزا برقرار رکھ کر بیٹی انسا امین کو یتیم نہیں کر سکتے۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم کے تحریر کردہ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مجرم والد کو پھانسی دینا عدالتی سرپرستی میں بیٹی کو یتیم کرنے کے مترادف ہوگا کیونکہ اقوام متحدہ کنونشن کے تحت بچوں کا بہترین مفاد کو مدنظر رکھنا ریاستی ذمہ داری ہے،فیصلہ میں مزید کہا گیا ہے کہ جب وارث مقتول کا براہ راست وارث ہو تو دفعہ 306 کے تحت قصاص نافذ نہیں ہو سکتا، مجرم اپنی 15 سالہ انسا امین بیٹی کا واحد بچ جانے والا سہارا ہے ،

مجرم محمد امین نے اپریل 2021 کو وہاڑی میں اپنی اہلیہ اور بیٹی کو خنجر کے وار سے قتل کیاتھا مجرم کا وقوعہ سے ایک روز قبل اپنی اہلیہ اور بچوں سے زرعی اراضی کی فروخت پر جھگڑا ہوا تھا
مجرم نے بیوی پر 21 اور بیٹی پر 8 وار کیے جبکہ دوسری بیٹی کو زخمی کیاتھا.