اسلام آباد (ای پی آئی) سپریم کورٹ نے مختار عام رکھنے والے شخص (اٹارنی) کی جانب سے اپنے بیٹوں کو کی گئی زمین کی منتقلی غیر قانونی قرار دے دی

جسٹس بلال حسن نے تحریری فیصلہ جاری کردیا

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مختار نامہ رکھنے والا شخص مالک کی مرضی کے بغیر جائیداد اپنے رشتہ داروں کو نہیں بیچ سکتا،

سپریم کورٹ نے مزید کہا کہ اگر اٹارنی کسی کو جائیداد منتقل کرنا چاہے، تو اصل مالک سے پہلے تحریری اجازت لینا ہوگی، جائیداد کی منتقلی سے پہلے اٹارنی پر لازم ہے کہ وہ اصل مالک کو سودے کی تمام تفصیلات سے آگاہ کرے،

سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ اس کیس میں خاتون نے اپنے اٹارنی کو یہ زمین اس کے بیٹوں کے نام کرنے کی اجازت نہیں دی تھی، محض چیک کے ذریعے رقم دینا جائیداد کی فروخت کا حتمی ثبوت نہیں،

فیصلے کے مطابق جواب دہندہ فرحت اقبال کو اپنے والد سے چشتیاں میں زمین وراثت میں ملی تھی فرحت اقبال نے اپنے قریبی رشتہ دار کو اپنی زمین کی دیکھ بھال کے لیے مختارِ عام مقرر کیا

اٹارنی (مختارِ عام۔ رکھنے والے) نے مالک کی اجازت کے بغیر وہ زمین اپنے ہی بیٹوں کے نام منتقل کر دی۔