اسلام آباد(ای پی آئی): جنوبی ایشیاء کے صفِ اول کے معاون ٹیکنالوجی اسٹارٹ اپ، کنیکٹ ہیئر نے جی ایس ایم اے اور یوفون کے اشتراک سے اسلام آباد سیرینا ہوٹل میں ’’نیشنل ڈیپلائمنٹ آف سائن لینگویج اے آئی فار پبلک براڈکاسٹ‘‘ منصوبے کی افتتاحی تقریب کا انعقاد کیا۔

تقریب میں حکومت، ٹیلی کام شعبے، اقوامِ متحدہ کے اداروں اور انسانی ہمدردی کے شعبے سے تعلق رکھنے والے اہم اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی، تاکہ سماعت سے محروم افراد کے لیے قومی سطح پر قابلِ رسائی مواصلات کے فروغ کے لیے شراکت داری کو فروغ دیا جا سکے۔

یہ کنیکٹ ہیئر کے جی ایس ایم اے کے تعاون سے چلنے والے مصنوعی ذہانت پر مبنی خطرات سے قبل از وقت آگاہی دینے والے نظام،’ سُنو‘ (SUNO) کی اختتامی تقریب بھی تھی، جس میں منصوبے کی اہم کامیابیوں کو اُجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے اگلے مرحلے کے طور پر ملک گیر نفاذ کا آغاز بھی کر دیا گیا۔ یہ اقدام کنیکٹ ہیئر اور یوفون کی جانب سے’ سنو‘ کی ابتدائی تنصیب کے بعد اس کی ترقی میں ایک اہم پیش رفت اور آزمائشی منصوبوں سے بڑھ کر عوامی مواصلاتی نظام کے لیے قابلِ توسیع اور مربوط حل کی جانب سفر کو ظاہر کرتا ہے۔

اپنے آزمائشی مرحلے کے دوران سُنو نے سندھ کے 10 سے زائد آفت زدہ اضلاع میں تقریباً 2,000 افراد تک خدمات پہنچائیں، اور کم بینڈوڈتھ نظام میں سماعت سے محروم افراد کو اشاروں کی زبان میں اہم ہنگامی معلومات فراہم کیں۔ اب کنیکٹ ہیئر کی ورچوئل انٹرپریٹیشن ایپ میں ضم ہونے کے بعد سنو 50,000 سے زائد صارفین تک اپنی خدمات پہنچائے گا، جس سے سماعت سے محروم افراد کو قبل از وقت وارننگ اور آفات سے متعلق مواصلات تک بہتر رسائی ملے گی۔

یہ اقدام پاکستان میں ایک شمولیتی مواصلاتی نظام کی فوری ضرورت کو اُجاگر کرتا ہے ، جہاں 13 لاکھ 50 ہزار سے زائد افراد سماعت سے محرومی کے باعث آفات کے دوران زیادہ خطرے سے دوچار ہوتے ہیں، اور 2008 سے اب تک 2 کروڑ 70 لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔
منصوبے کے متعلق برطانوی ہائی کمشنر، جین میریئٹ سی ایم جی او بی ای کا کہنا تھا، ’’سُنو اس بات کی ایک روشن مثال ہے کہ شمولیتی، مقامی سطح پر تیار شدہ اور مصنوعی ذہانت پر مبنی سہولیات آفات سے نمٹنے کی بہتر تیاری میں بہت معاون ثابت ہوسکتی ہیں اور اس بات کو یقینی بنا سکتی ہیں کہ معذور افراد کو جان بچانے والی قبل از وقت اطلاعات تک مساوی رسائی حاصل ہو۔

برطانیہ کو ایسی جدید ترین سہولیات کی حمایت پر فخر ہے جو تمام طبقات کی فلاح و بہبود کو پیش نظر رکھتی ہیں، جن میں پاکستان بھر میں موجود ایک کروڑ سماعت سے محروم اور کم سماعت رکھنے والے افراد بھی شامل ہیں جو اس ٹیکنالوجی سے مستفید ہونے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔‘‘

کمبرلی براؤن، ہیڈ آف موبائل فار ہیومینیٹیرین انوویشن نے اس اقدام کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا، ’’جی ایس ایم اے انوویشن فنڈ فار ہیومینیٹیرین چیلنجز کا مقصد ایسی سہولیات کی حمایت کرنا ہے، جو پائلٹ مرحلے سے آگے بڑھ کر حقیقی اور قابلِ توسیع اثرات مرتب کریں، اور کنیکٹ ہیئر کا کام اسی عزم کی عکاسی کرتا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’سنو کے قومی سطح پر نفاذ کے ساتھ مصنوعی ذہانت پر مبنی اشاروں کی زبان میں پیغامات اور کم بینڈوڈتھ جدتیں اس بات کو یقینی بنا سکیں گی کہ سماعت سے محروم افراد کو ہنگامی حالات میں بروقت اور جان بچانے والی معلومات فراہم کی جائیں، جو رسائی کے حوالے سے ایک عالمی معیار قائم کریں گی۔‘‘

سید عاطف رضا، چیف کمرشل آفیسر، پی ٹی سی ایل اور یوفون، نے کہا، ’’ٹیکنالوجی کو محض کنیکٹیویٹی کی فراہمی سے آگے بڑھ کر کم سہولیات رکھنے والے طبقات کی رسائی اور شمولیت کو ممکن بنانے کیلئے بھی کام کرنا ہوگا۔ یوفون اپنی ڈیجیٹل مہارت اور ملک گیر موجودگی کو بروئے کار لاتے ہوئے کوششیں کر رہا ہے کہ اہم معلومات ہر فرد، بالخصوص معذور افراد تک پہنچیں ، اور سنو جیسے اقدامات ایک ایسے جامع ڈیجیٹل ایکو سسٹم کی تشکیل میں مدد دے رہے ہیں جو معاشرے کے ہر فرد کی شمولیت کو ممکن بناتا ہے۔‘‘

ارحم اشتیاق، شریک بانی، کنیکٹ ہیئر، نے کہا، ’’ہم نے جو سہولت متعارف کرائی ہے، وہ حقیقی معنوں میں جدید ہے، اور نہ صرف رسائی بڑھانے، بلکہ خود مصنوعی ذہانت کو قابلِ رسائی بنانے میں بھی معاون ہے۔ سنو اور ہماری دیگر اے آئی ٹیکنالوجیز کے ذریعے ہم پہلی بار سماعت سے محروم افراد کو ان نظاموں میں شامل کر رہے ہیں، جو کبھی ان کے لیے ڈیزائن ہی نہیں کیے گئے تھے۔ ہمارا مقصد ایسی ٹیکنالوجی کی تشکیل جاری رکھنا ہے جو کنیکٹ ہیئر کی اے آئی سہولیات کے ذریعے ڈیجیٹل اور حقیقی دونوں دنیاؤں کو سماعت سے محروم افراد کے لیے مکمل طور پر قابلِ رسائی بنائیں۔‘‘

تقریب میں مصنوعی ذہانت پر مبنی اشاروں کی زبان کی نشریاتی ٹیکنالوجی کا براہِ راست مظاہرہ، مرتب شدہ اہم اثرات، اور شراکت داروں بشمول یوفون، ہینڈز، اور ڈیف ریچ کی جانب سے تاثرات پیش کیے گئے، جو پاکستان میں انسانی ہمدردی کے اقدامات اور سماعت سے محروم افراد کی تعلیم کے شعبے میں اپنے کردار کے حوالے سے نمایاں ادارے ہیں۔

مزید برآں، اس تقریب میں اے آئی سے چلنے والی قابلِ رسائی ٹیکنالوجیز کے مستقبل پر بھی توجہ مرکوز کی گئی، جس میں اس بات کا جائزہ لیا گیا کہ ایسی سہولت کو قومی نشریاتی نظام، آفات سے نمٹنے کے فریم ورکس، اور عوامی مواصلاتی ذرائع میں کس طرح ضم کیا جا سکتا ہے تاکہ سماعت سے محروم کمیونٹیز کو مشکل حالات میں پیچھے نہ چھوڑا جائے۔