اسلام آباد(ای پی آئی) سپریم کورٹ نے ایک سرکاری ملازم کی برطرفی کے مقدمہ میں سوال اٹھا یا ہے کہ کیا غیر حاضری کو قانونی چھٹی میں بدلنے کے بعد ملازم کو برطرف کیا جا سکتا ہے؟ عدالت نے وفاقی حکومت کے متضاد بیانات پر فیڈرل سروس ٹربیونل کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر کیس نئے سرے سے فیصلے کے لیے واپس ٹربیونل کو بھیج دیا ہے.
چیف جسٹس یحیی آفریدی اور جسٹس محمد علی مظہرکی عدالت میں کیس کی سماعت مکمل ہونے کے بعد جسٹس محمد علی مظہر کی جانب سے تحریر کردہ 9صفحات پر مشتمل فیصلہ آج جاری کیا گیا ہے جس میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ اگر کسی ملازم کو برطرف ہی کرنا ہے تو اس کی غیر حاضری کو چھٹی میں بدلنے کی کیا منطق ہے؟ سپریم کورٹ نے یڈرل سروس ٹربیونل کو ہدایت کی ہے کہ فریقین کو سن کر تین ماہ کے اندر کیس کا فیصلہ دوبارہ کیا جائے.
جسٹس محمد علی مظہر نے وزارت تجارت کے ملازم ارسلان احمد کے کیس کا تحریری فیصلہ جاری کرتےہوئے وفاقی حکومت کی جانب سے متضاد بیانات اور موقف اپنانے پر حیرانی کا اظہار کیا ہے.
فیصلے میں بتایا گیا ہے کہ درخواست گزار ارسلان احمد کو ڈیوٹی سے غیر حاضری کی بنیاد پر سروس سے برطرف کیا گیا تھادرخواست گزار کے مطابق اہلیہ کی شدید علالت اور کورونا کے باعث پروازیں بند ہونے کی وجہ سے وہ بروقت جوائننگ نہیں دے سکے، درخواست گزار کے مطابق ان کے خلاف یکطرفہ تادیبی کارروائی کی گئی،
فیصلے میں سپریم کورٹ نے لکھا ہے کہ برطرفی کے ساتھ ہی درخواست گزار کی غیر حاضری کے دورانیے کو بغیر تنخواہ کی چھٹی میں تبدیل کر دیا گیا تھا، درخواست گزار وکیل کے مطابق غیر حاضری کو چھٹی میں ریگولرائز کرنے کے بعد برطرفی کا جواز باقی نہیں رہتا،عدالت نے مزید لکھا ہے کہ وفاقی حکومت نے ٹربیونل میں بیان دیا کہ غیر حاضری کو چھٹی میں بدلنا ڈپٹی سیکرٹری کی غلطی تھی جبکہ سپریم کورٹ میں حکومت نے تسلیم کیا کہ غیر حاضری کو سیکرٹری کامرس کی منظوری سے ہی چھٹی میں بدلا گیا تھا،
سپریم کورٹ نے قراردیا ہے کہ حکومت کے دونوں موقف ایک دوسرے کی نفی کر رہے ہیں اس لیئے یہ سمجھنا مشکل ہے کہ کس پر یقین کیا جائے، رول آف لاء کے تحت غیر حاضری کو ماضی سے لاگو چھٹی میں تبدیل کیا جا سکتا ہے.


