کشمور (رپورٹ: حاکم نصیرانی) کشمور پولیس نے ایک ہفتے کے اندر ایک اہم کیس حل کر لیا۔ گزشتہ روز کشمور پولیس نے گڈو پولیس اور 15 کے ہمراہ کچے کے علاقے میں ایک اہم کارروائی کرتے ہوئے سبزی منڈی میں تاجر کے قتل کیس کو حل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

ایس ایس پی محمد نعمان نے اپنے دفتر میں ایس ایچ او کشمور غلام قادر جتوئی، ایس ایچ او گڈو منظور احمد لغاری اور 15 کشمور کے انچارج طارق عباس سولنگی کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ 16 اپریل کو کشمور کی سبزی منڈی میں ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر مسلح افراد کی فائرنگ سے قتل ہونے والے تاجر قمر حسین کے قتل میں ملوث تین ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ ایک ملزم تاحال فرار ہے جس کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں اور اسے جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔

ایس ایس پی محمد نعمان کے مطابق پولیس نے جدید طریقہ تفتیش اپناتے ہوئے مقتول کے ملازم حسن سولنگی کو گرفتار کیا، جس نے دورانِ تفتیش جرم کا اعتراف کیا۔ تفتیش کے دوران اس نے انکشاف کیا کہ وہ نہ صرف قتل میں ملوث تھا بلکہ ایک ماہ قبل مقتول کے ساتھ ہونے والی ڈکیتی کی واردات میں بھی اس کا کردار تھا۔

پولیس کے مطابق ملزم حسن سولنگی کی نشاندہی پر مختلف مقامات پر کارروائیاں کرتے ہوئے قتل میں ملوث مرکزی ملزمان باگو شر اور نظام سولنگی کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔ گرفتار ملزمان کے قبضے سے قتل میں استعمال ہونے والے دو ٹی ٹی پستول بھی برآمد کر لیے گئے ہیں۔

ایس ایس پی کشمور کا کہنا تھا کہ مفرور ملزم کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں اور اسے بھی جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کشمور پولیس علاقے میں امن و امان کے قیام کے لیے پرعزم ہے اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلا تفریق کارروائیاں جاری رہیں گی۔

پریس کانفرنس میں مزید کہا گیا کہ شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے پولیس اپنے اقدامات مزید سخت کرے گی اور ایسے واقعات میں ملوث عناصر کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

یاد رہے کہ صوبہ پنجاب کے شہر صادق آباد سے تعلق رکھنے والے نوجوان تاجر قمر حسین کو کشمور میں ڈکیٹی کے دوران گولی مار کر قتل کردیا گیا تھا.